متوازی عمل
Urdu book, p. 350
By Maulana Wahiduddin Khan
تمام عرب قبائل کے لیے مقام اجتماع کی حیثیت اختیار کر لی۔ تمام عرب قبائل کے لوگ مسلسل طور پر مکہ آنے لگے۔ اس طرح پیغمبرِ اسلام کو یہ موقع مل گیا کہ وہ مکہ میں رہتے ہوئے تمام عرب قبائل میں اپنا مشن پھیلا سکیں — قریش اُس وقت ایک مشرک قبیلے کی حیثیت رکھتے تھے۔ اِس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اُن سے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے موحدانہ مشن کی تائید کا کام لیا۔ اہل مغرب کے ذریعے تائید پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن میں غیر اہل ایمان کی تائید کا دوسرا بڑا واقعہ وہ ہے جو بعد کے زمانے میں پیش آیا۔ یہ اہل مغرب کے ذریعے تائید فراہم کرنے کا واقعہ تھا۔ یہ واقعہ مغرب کی نشأۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد پیش آیا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (14:34)۔ یعنی، اور اس نے تم کو ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے مانگا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے انسان کو اس کی ضرورت کی تمام چیزیں دے دی ہیں۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانے میں انسان کو یہ اشیاء ضرورت صرف محدود طور پر حاصل ہوئی تھیں۔ جو چیزیں دنیا میں فطری طور پر آغاز تخلیق سے پائی جاتی تھیں، صرف اُن چیزوں تک انسان کی رسائی ہوسکی۔ مثلاً سواری کے لیے گھوڑا، وغیرہ۔ دوسری چیزیں وہ تھیں جن کے حصول کے لیے ٹکنالوجی کی دریافت ضروری تھی۔ قدیم زمانے میں انسان اِس ٹکنالوجی کو دریافت نہ کر سکا، اِس لیے وہ اِس دوسری قسم کی اشیاء ضرورت کو حاصل کرنے سے محروم رہا۔ یہ ٹکنالوجی صرف مغربی تہذیب کے ذریعے دریافت ہوئی اور پھر ضرورت کی بے شمارئی چیزیں انسان کے لیے قابلِ حصول ہوگئیں۔ یہ اشیاء ضرورت صرف اشیاء ضرورت نہ تھیں، بلکہ وہ شکر خداوندی کے نئے اور عظیم تر آئٹم کی حیثیت رکھتی تھیں۔ اِسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر کا مشن سارے اہل عالم کے لیے ہے (25:1)۔ لیکن پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے زمانے میں مشن کا یہ عالمی ابلاغ عملاً ممکن نہ ہوسکا۔ کیوں کہ اس کے لیے عالمی کمیونیکیشن کی ضرورت تھی اور قدیم زمانے میں یہ عالمی کمیونیکیشن وجود میں نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader