پیغمبر اسلام کا مشن
Urdu book, p. 363
By Maulana Wahiduddin Khan
مطلوب تھا کہ قرآن کا مستند ہدایت نامہ اپنی کامل صورت میں محفوظ ہو جائے، تاکہ قیامت تک کے انسانوں کے لیے وہ خدائی ہدایت کو جاننے کا مستند ذریعہ ہو۔ اس مطلوب الہی کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ (15:9)- یعنی، قرآن کو ہم نے اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ قرآن کی حفاظت مکمل طور پر ایک پرامن کام تھا۔ اللہ تعالی نے ایسے اسباب پیدا کیے کہ قرآن کا مکمل طور پر ایک محفوظ کتاب بن جائے، تاکہ وہ قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کے لیے خدا کی ہدایت کو معلوم کرنے کا مستند ماخذ بن سکے۔ یہ کام مکمل طور پر انجام پا گیا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج پریس کے دور میں قرآن کے چھپے ہوئے نسخے تمام دنیا میں اس طرح موجود ہیں کہ ہر عورت اور مرد جب چاہے، اس کو حاصل کر سکے۔ حفاظت قرآن کے اس واقعے کا اعتراف سیکولر محققین نے بھی کھلے طور پر کیا ہے۔ مثال کے طور پر اسکاٹش مستشرق سرولیم میور(Sir W. Muir) جس کی وفات 1905 میں ہوئی، اس نے قرآن کی بابت لکھا ہے کہ -غالباً دنیا میں کوئی دوسری کتاب ایسی موجود نہیں جو کہ 12 صدیوں تک اپنی کامل حفاظت کو برقرار رکھے: There is probably, in the world, no book which has remained for 12 centuries with so pure a text. (The Life of Muhammad from Original Sources, p. xxiii) قرآن کے بعد، خدا کے نور ہدایت کا دوسرا جز وہ ہے جس کو قرآن میں پیغمبر خدا کا اسوہ حسنہ (33:21) کہا گیا ہے، یعنی عملی اعتبار سے خدا پرستانہ زندگی گزارنے کا مستند نمونہ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایک پُر از واقعات زندگی (eventful life) تھی۔ آپ کی زندگی میں ہر طرح کے حالات پیش آئے۔ آپ نے ہر صورت حال میں خدا پرستانہ زندگی کا عملی نمونہ قائم کیا۔ آپ کے اس اعلیٰ نمونے کو قرآن میں خُلُقِ عَظِيم (68:4) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کے یہ نمونے حدیث اور سیرت کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ موجود ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader