Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 364

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کا یہ پہلو اتنا زیادہ واضح ہے کہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے۔ اس کی ایک مثال برٹش اسکالر ڈیوڈ جارج ہاگرتھ (David George Hogarth) ہے، جس کی وفات 1927 میں ہوئی۔ اس نے اپنی ایک کتاب میں پیغمبر اسلام کے بارے میں لکھا ہے کہ۔ پیغمبر اسلام کا روزمرہ کا سلوک خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، اس نے ایسی حیثیت اختیار کر لی جس کی اب تک لاکھوں لوگ اہتمام کے ساتھ پیروی کر رہے ہیں۔ انسانی نسل کے کسی طبقے کا کوئی آدمی یہ درجہ حاصل نہ کر سکا کہ ایک معیاری انسان کی حیثیت سے اس طرح اس کا کامل اتباع کیا جائے: Serious or trivial, his daily behaviour has instituted a course which millions observe at this day with conscious mimicry. No one regarded by any section of the human race as perfect man has been imitated so minutely. (Arabia, p. 52) ہدی سے مراد نظریاتی ماڈل ہے۔ خدا کی ہدایت کا یہ نظریاتی ماڈل قرآن اور سنتِ رسول کی شکل میں مستند طور پر محفوظ ہو گیا ہے۔ یہ نظریاتی ماڈل اب ہمیشہ کے لیے پیغمبر کا بدل ہے۔ اظہارِ دین قرآن کی مذکورہ آیتوں میں دو چیزوں کا ذکر ہے ــــ ہدی اور دین۔ دونوں کی حیثیت ایسے مطلوب کی ہے جن کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے ذریعے حاصل کرنا مقدر تھا۔ لیکن آیت کے الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ہدی سے مراد ایک نظریاتی مطلوب ہے، اور دین سے مراد ایک عملی مطلوب۔ جب قرآن کا متن محفوظ ہو گیا اور پیغمبر اسلام کا ماڈل حدیث اور سیرت کی کتابوں کے ذریعے مستند طور پر مدوّن ہو گیا تو اس کے بعد وہ مطلوب آخری طور پر حاصل ہو گیا جس کو آیت میں ہدی کے لفظ میں بیان کیا گیا تھا۔ اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعے سے اپنی ہدایت کا مستند ماخذ تیار کر دیا۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اس خدائی ماخذ سے اپنے لیے ہدایت حاصل کرتا ہے یا ہدایت حاصل نہیں کرتا۔ اظہار دین کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اس معاملے میں اظہار، یعنی غلبہ مطلوب ہے، نہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page