اظہار دین
Urdu book, p. 365
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ صرف نظریاتی معیار کا وجود میں آنا۔ اس لیے اظہارِ دین سے ایک ایسا مطلوب مراد لیا جائے گا جو بالفعل وقوع میں آیا۔ بالفعل وقوع میں آنے سے کم درجے کی کوئی چیز اس کی تفسیر نہیں بن سکتی۔ اس آیت میں اظہارِ دین سے حکومتی نظام یا قانونی نظام مراد نہیں لیا جاسکتا۔ اس لیے کہ تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں یا آپ کے بعد کامل معنوں میں ایسا کوئی نظام نہیں بنا اور نہ بن سکتا ہے، اس لیے کہ اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے انسانی آزادی کے اصول پر بنایا ہے(18:29)۔ ایسی حالت میں یہ ممکن ہی نہیں کہ یہاں معیاری معنوں میں کوئی کامل نظام بنایا جاسکے۔ امتحان کی مصلحت کے تحت دی ہوئی انسانی آزادی اس طرح کے معیاری نظام کو قائم کرنے میں حتمی طور پر مانع ہے۔ اس دنیا میں جب آئیڈیل کا حصول ممکن نہیں تو آئیڈیل کے حصول کو نشانہ بنانا بھی درست نہیں ہوسکتا۔ ایسی حالت میں، اظہارِ دین کی آیت میں دین کے اظہار کی ایسی تفسیر کرنی پڑے گی جو عملی طور پر وقوع میں آئی ہو۔ اس اعتبار سے غور کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں دین سے مراد شرعی دین نہیں ہے، بلکہ فطری دین ہے، اور اظہارِ دین کا مطلب ہے انسانی زندگی میں خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، حالتِ فطری کا قائم ہو جانا۔ دین کا یہ مفہوم قرآن کی ایک اور آیت میں موجود ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: اَفَغَيْرَ دِيۡنِ اللّٰهِ يَبۡغُوۡنَ وَلَهٗ اَسۡلَمَ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّاِلَيۡهِ يُرْجَعُوۡنَ (3:83)۔ یعنی، کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں۔ حالانکہ اسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے، اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اس آیت میں دین سے مراد دینِ شرعی نہیں ہے، بلکہ دینِ فطری ہے، یعنی وہ دین جس پر تمام کائنات بالفعل قائم ہے۔ یہ دین فطری کیا ہے، وہ قرآن کی اس آیت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے: الَّذِيۡ خَلَقَ الۡمَوْتَ وَالۡحَيٰوةَ لِيَبۡلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيۡزُ الْغَفُوۡرُ (67:2)۔ یعنی، جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ اور وہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader