اظہارِ دین
Urdu book, p. 366
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ اللہ نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق ، انسان کو پیدا کر کے سیارہ ارض پر بسایا۔ انسان کو زمین پر بسانا بطور امتحان (test) تھا، تاکہ امتحانی حالات سے گزار کر احسن العمل افراد کا انتخاب کیا جائے، یعنی ایسے عورت اور مرد کا انتخاب جنھوں نے کامل آزادی کے باوجود اپنے آپ کو پوری طرح حدودِ الہی کا پابند بنایا ، جنھوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) نہیں کیا۔ یہی منتخب افراد وہ لوگ ہیں جن کو پوری تاریخ سے لے کر ابدی جنتوں میں بسایا جائے گا۔ زمین پر یہ آزادانہ ماحول اللہ کو لازمی طور پر مطلوب ہے۔ آزادی کے اس نظام کو کوئی بھی شخص یا گروہ اگر منسوخ (abolish) کرے تو اللہ ہر گز اس کو قبول نہیں کرے گا، وہ ایسے افراد یا گروہ کا لازماً خاتمہ کر دے گا۔ بادشاہت کے نظام کا خاتمہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت 610 عیسوی میں ہوئی۔ اُس وقت یہ حال تھا کہ ساری دنیا میں کچھ انسانوں نے بادشاہت کا نظام قائم کر دیا تھا۔ یہ شاہی نظام عملاً جبریت (despotism) کے ہم معنی تھا۔ اس نظام نے انسانوں سے اُس آزادی کو چھین لیا تھا جو اللہ نے ان کو عطا کی تھی۔ یہ صورتِ حال اللہ کو مطلوب نہیں تھی، کیوں کہ وہ اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) کی منسوخی کے ہم معنی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ اس جابرانہ نظام سے ٹکرا کر اس کو ختم کر دیں، تا کہ دنیا میں دوبارہ اللہ کی مطلوب حالتِ فطری قائم ہو جائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اُس زمانے میں ایک طرف عرب میں ملکی سطح پر قبائلی نظام تھا۔ اس قبائلی نظام نے بھی عملاً انسانی آزادی کو ختم کر رکھا تھا۔ اس صورتِ حال کا اشارہ قرآن کی مختلف آیتوں میں کیا گیا ہے۔ مثلاً: اَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَىٰ۔ عَبْدًا إِذَا صَلَّىٰ (96:9-10) یعنی ، کیا تم نے دیکھا اُس شخص کو جو منع کرتا ہے، ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader