کا خاتمہ
Urdu book, p. 367
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کا پہلا ٹکراؤ اس قبائلی نظام سے ہوا۔ اس کے نتیجے میں محدود نوعیت کی کچھ جنگیں (limited wars) پیش آئیں ۔ آخر کار 8 ہجری میں مکہ فتح ہوا، جو عرب کے قبائلی نظام کا مرکز تھا۔ فتح مکہ کے بعد سارے عرب میں قبائل کا زور ٹوٹ گیا اور آزادی کی حالت قائم ہوگئی۔ فتح مکہ کے بعد اصحاب رسول کو غلبہ حاصل ہو گیا ۔ اس غلبہ کا مرکز مدینہ تھا۔ یہ غلبہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے حکومت قائم ہونے کے ہم معنی نہ تھا، بلکہ وہ صرف یہ تھا کہ انتظامیہ (administration) قبائلی سرداروں کے ہاتھ سے نکل کر اصحاب رسول کے ہاتھ میں آ گیا۔ اس اعتبار سے دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ عرب کے باہر اُس وقت دو بڑی شہنشاہتیں قائم تھیں ۔ ایک، ساسانی ایمپائر (Sassanid empire) اور دوسرے، بازنتینی ایمپائر (Byzantine empire) ۔ ساسانی ایمپائر کا دار السلطنت عراق کا قدیم شہر ساسانیان (Ctesiphon) تھا اور بازنتینی ایمپائر کا دار السلطنت ترکی کا شہر قسطنطنیہ (Constantinople) تھا۔ ساسانی ایمپائر دراصل اُس وقت کے رومن ایمپائر کا مشرقی بازو تھا۔ یہ دونوں ایمپائر عرب کے قریب واقع تھے اور وہ اُس وقت کی دنیا میں بادشاہت پر مبنی جبری نظام کے نمائندے بنے ہوئے تھے ۔ ان دونوں ایمپائرز نے اللہ کی دی ہوئی آزادی کو عملاً منسوخ کر رکھا تھا، جو کہ اللہ کو کسی حال میں مطلوب نہ تھا۔ بازنتینی سلطنت کا اقتدار 15 ملکوں پر تھا۔ اس کا خاتمہ 678 عیسوی میں ہوا۔ اور ساسانی سلطنت کا اقتدار 13 ملکوں پر تھا۔ اس کا خاتمہ 651 عیسوی میں ہوا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حکمرانوں کو اپنے نمائندوں کے ذریعے خطوط بھیجے ۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ حکمراں پر امن طور پر اپنے جابرانہ نظام کو ختم کرنے کے لیے تیار ہو جائیں، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ساسانی حکمران نے آپ کے مکتوب کو اتنا حقیر سمجھا کہ اس نے اس کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ اس کے بعد پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کا دونوں سے ٹکراؤ پیش آیا ۔ اس ٹکراؤ میں اللہ کی مدد پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے ساتھ تھی ، چنانچہ وہ پوری طرح کامیاب ہوئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader