Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 368

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ایک عظیم تاریخی واقعہ تھا، جس نے انسانی تاریخ کے دھارے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ چنانچہ اللہ نے ایک اسرائیلی پیغمبر حبقوق کے ذریعے اس کی پیشگی خبر دے دی تھی جو موجودہ بابل میں بدستور موجود ہے۔ اس پیشگی خبر کے الفاظ یہ ہیں ــــ وہ کھڑا ہوا اور زمین تھرا گئی۔ اس نے نگاہ کی اور قو میں پراگندہ ہو گئیں۔ ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہو گئے۔ قدیم ٹیلے جھک گئے۔ اس کی راہیں ازلی ہیں: He stood and measured the earth; He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered, the perpetual hills bowed. His ways are everlasting (Habakkuk 3:6) مذکورہ بیان میں ”وہ“ سے مراد پیغمبر اسلام ہیں، اور ”پہاڑیوں“ سے مراد سیاسی پہاڑیاں ہیں، یعنی ساسانی ایمپائر اور بازنتینی ایمپائر۔ ”اس کی راہیں ازلی ہیں“ سے مراد ہے خدا کے دین کا ابدی طور پر محفوظ ہو جانا۔ بابل کی یہ پیشین گوئی پیغمبر اسلام کے ذریعے کامل طور پر پوری ہوئی۔ نئے دور کا آغاز جبر پر مبنی مذکورہ دونوں سیاسی ایمپائر کا خاتمہ ساتویں صدی عیسوی میں ہوا۔ یہ دونوں ایمپائر آزادانہ ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ جب یہ دونوں ایمپائر ختم ہوئے تو دنیا میں آزادی کا ایک نیا دور آیا۔ اس نئے دور کے حالات نہ صرف مسلم مورخین کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں، بلکہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے۔ انھیں سیکولر مورخین میں سے ایک فرانسیسی مورخ ہنری پرین (Henri Pirenne) ہے، جس کی وفات 1935 میں ہوئی۔ ہنری پرین نے اپنے مطالعے کے نتیجے میں کھلے طور پر اس تاریخی حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔ ہنری پرین نے لکھا ہے کہ ساسانی ایمپائر اور بازنتینی ایمپائر نے دنیا میں مطلق شہنشاہیت (monarchical absolutism) کا نظام قائم کر رکھا تھا۔ اصحاب رسول نے اپنی غیر معمولی قربانی کے ذریعے اس نظام کو توڑ دیا۔ اس واقعے کے نتیجے میں تاریخ میں ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page