Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 369

By Maulana Wahiduddin Khan

نیا دور شروع ہوا۔ ہنری پرین کے الفاظ میں۔ اسلام نے زمین کے نقشے کو بدل دیا۔ تاریخ کے روایتی نظام کا خاتمہ ہو گیا: Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown. (History of Western Europe, p. 46) ساتویں صدی عیسوی میں جب سیاسی جبر کے نظام کا خاتمہ کیا گیا تو اس کے بعد دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا۔ یہ انقلاب فوری نتیجے کے معنی میں نہ تھا، بلکہ وہ ایک پراسس (process) کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کے بعد انسانی زندگی میں پہلی بار ایک نیا تاریخی عمل (historical process) شروع ہوا۔ یہ تاریخی پراسس برابر چلتا رہا، یہاں تک کہ وہ اپنے آخری نقطہ انتہا (culmination) تک پہنچ گیا۔ یہ آخری نقطہ انتہا وہی ہے جس کو عام طور پر مغربی تہذیب (western civilization) کہا جاتا ہے۔ اس تاریخی عمل کے دو بڑے دھارے تھے— ایک، وہ جس کو جدید اصطلاح میں، جمہوریت (democracy) کہا جاسکتا ہے۔ اور دوسرا، وہ جس کو جدید ٹکنالوجی پر مبنی صنعت کہنا درست ہوگا۔ عام طور پر مسلم علما مغربی تہذیب کے بعض ناپسندیدہ پہلو کو دیکھ کر اس کے بارے میں منفی ہوگئے ہیں، مگر یہ ناپسندیدہ پہلو دراصل مغربی تہذیب کا کلچرل پہلو ہے، وہی اصل مغربی تہذیب نہیں ہے۔ اصل مغربی تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہی چیز ہے جس کو ہم نے خدا کے دین کے حق میں تائیدی عنصر کی حیثیت سے بیان کیا ہے۔ جمہوریت کا دور اہلِ علم کے درمیان عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں سماجی اور سیاسی نظام (socio-political system) کے اعتبار سے جو ترقیات ہوئی ہیں، اُن سب کی بنیاد جمہوریت ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ دراصل انقلاب فرانس (1789) تھا جس کے بعد دنیا میں جمہوریت کا دور آیا، مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ انقلاب فرانس (French Revolution) ایک تاریخی عمل کا نقطہ انتہا تھا۔ یہ تاریخی عمل انقلاب فرانس سے بہت پہلے عرب میں اسلامی انقلاب کے بعد شروع ہوا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page