جمہوریت کا دور
Urdu book, p. 370
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں اس معاملے میں یہ اصولی حکم ان الفاظ میں دیا گیا تھا: أَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (42:38)، یعنی، وہ اپنا کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں: Their affairs are decided by mutual consultation. وہ چیز جس کو موجودہ زمانے میں نظام جمہوریت کہا جاتا ہے، اُسی کو قرآن میں نظام شوریٰ کہا گیا ہے۔ شوریٰ کا یہ تصور اسلام کے اجتماعی نظام کی بنیاد ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کا جو اجتماعی نظام بنا، اس کو عام طور پر خلافت کہا جاتا ہے۔ اس خلافت کا اگر دوسرا نام تجویز کرنا ہو تو یقیناً وہ جمہوری خلافت ہوگا۔ اس معاملے کی ایک مثال خلیفہ ثانی عمر فاروق (وفات 644ء) کا ایک واقعہ ہے۔ اس واقعے کو یہاں نقل کیا جاتا ہے: ”خلیفہ دوم عمر فاروق کے زمانے میں عمرو بن العاص مصر کے گورنر تھے۔ انھوں نے ایک بار گھوڑوں کی دوڑ کرائی۔ اس دوڑ میں گورنر کے بیٹے کا گھوڑا بھی شریک تھا، مگر جب دوڑ ہوئی تو ایک مصری (غیر مسلم) کا گھوڑا آگے بڑھ گیا۔ مصری نے فتح کے جوش میں کوئی ایسا جملہ کہا جو گورنر کے صاحب زادے (محمد بن عمرو بن العاص) کو برا معلوم ہوا اور انھوں نے مذکورہ مصری کو کوڑے سے مار دیا۔ مارتے ہوئے اُن کی زبان سے نکلا: خُذْهَا وَ أَنَا ابْنُ الأَكْرَمِيْن (یہ لو، اور میں شریفوں کی اولاد ہوں)۔ حضرت انس بن مالک اس قصے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مذکورہ مصری اس کے بعد مصر سے چل کر مدینہ پہنچا اور خلیفہ عمر فاروق سے شکایت کی کہ گورنر کے لڑکے نے اس طرح اس کو کوڑے سے مارا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم یہاں ٹھہرو، اور فوراً اپنے ایک خاص آدمی کو مصر بھیجا کہ عمرو بن العاص اور ان کے بیٹے محمد بن عمرو جس حال میں ہوں، اسی حال میں ان کو لے کر مدینہ آؤ۔ چنانچہ وہ لوگ مدینہ لائے گئے۔ جب وہ مدینہ پہنچے تو خلیفہ عمر نے فرمایا: اَيْنَ الْمِصْرِيُّ، دُونَكَ الدُّرَّةَ فَاضْرِبْ بِهَا اِبْنَ الأَكْرَمِيْن (مصری کہاں ہے ۔ یہ کوڑا لو اور اس سے شریف زادہ کو مارو)۔ اس کے بعد مصری نے کوڑا لیا اور گورنر مصر کے سامنے ان کے صاحب زادہ کو مارنا شروع کیا۔ وہ مارتا رہا، یہاں تک کہ ان کو زخمی کر دیا۔ خلیفہ عمر درمیان میں کہتے جاتے تھے کہ شریف زادہ کو مارو۔ جب وہ خوب مار چکا تو خلیفہ عمر فاروق نے کہا کہ ان کے والد عمرو بن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader