اظہارِ دین
Urdu book, p. 371
By Maulana Wahiduddin Khan
العاص کے سر پر بھی ایک کوڑا مارو، کیوں کہ خدا کی قسم، ان کے بیٹے نے صرف باپ کی بڑائی کے زور پر تم کو مارا (فَواللّهِ مَا ضَرَبَكَ ابْنُهُ إِلا بِفَضْلِ سُلْطَانِهِ)۔ مصری نے کہا کہ اے امیر المومنین، جس نے مجھ کو مارا تھا، اس کو میں نے مار لیا۔ اس سے زیادہ کی مجھے حاجت نہیں۔ خلیفہ عمر نے کہا: خدا کی قسم، اگر تم ان کو بھی مارتے تو ہم تمھارے اور ان کے درمیان حائل نہ ہوتے، یہاں تک کہ تم خود ہی ان کو چھوڑ دو۔ پھر آپ نے عمر و بن العاص سے مخاطب ہو کر فرمایا: يَا عَمْرُو، مَتَى اسْتَعْبَدْتُمُ النَّاسَ وَقَدْ وَلَدَتْهُمْ أُمَّهَاتُهُمْ أَحْرَارًا (سیرت عمر بن الخطاب، علی محمد الصلابی (306/1)۔ یعنی، اے عمرو، تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنالیا، حالانکہ اُن کی ماؤں نے ان کو آزاد پیدا کیا تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں اسلامی انقلاب کے تحت پیدا ہونے والا یہ جمہوری پراسس (democratic process) تاریخ میں سفر کرتا رہا۔ آخری کار وہ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے مغربی یورپ پہنچا۔ خلیفہ عمر فاروق کے مذکورہ واقعے کے تقریباً 11 سو سال بعد فرانس کے جمہوری مفکر روسو (Jean Jacques Rosseau) نے اپنی مشہور کتاب سوشل کنٹریکٹ (Contract Social) 1762 میں شائع کی۔ اس کتاب کا پہلا جملہ خلیفہ عمر فاروق کے قول کی بازگشت تھا۔ کتاب کا وہ پہلا جملہ یہ تھا— انسان آزاد پیدا ہوا تھا، لیکن میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتا ہوں: Man was born free, but I see him in chains. پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً 30 سال بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ شورائی خلافت اپنے ڈھانچے کے اعتبار سے، ایک خاندانی خلافت بن گئی، لیکن اسلامی انقلاب کے اثرات اتنے گہرے تھے کہ اس ظاہری تبدیلی کے باوجود خلافت کا جمہوری مزاج بدستور باقی رہا۔ اس معاملے کی بہت سی مثالیں تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں۔ بطور مثال یہاں ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے۔ ہارون رشید کا ایک واقعہ ہارون رشید عباسی دور کا پانچواں خلیفہ ہے۔ وہ 766 میں پیدا ہوا اور 809 میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: وَذُكِرَ أَنَّ يَهُودِيًّا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ عِنْدَ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader