Urdu book · اظہارِ دین

ہارون رشید کا ایک واقعہ

Urdu book, p. 372

By Maulana Wahiduddin Khan

ہَارُوْنَ الرَّشِيْدِ، فَاخْتُلِفَ إِلَى بَابِهِ سَنَةً، فَلَمْ تُقْضَ حَاجَتُهُ، فَوَقَفَ يَوْماً عَلَى الْبَابِ۔ فَلَمَّا خَرَجَ ہَارُوْنُ سَعَى حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَالَ: اِتَّقِ اللَّهَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَنَزَلَ ہَارُوْنُ عَنْ دَابَّتِهِ وَخَرَّ سَاجِداً۔ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ أَمَرَ بِحَاجَتِهِ فَقُضِيَتْ۔ فَلَمَّا رَجَعَ قِيلَ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، نَزَلْتَ عَنْ دَابَّتِكَ لِقَوْلِ يَهُودِيٍّ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ تَذَكَّرْتُ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ، فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ، وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ ( تفسير القرطبي، جلد 3، صفحہ 19)۔ یعنی، کہا جاتا ہے کہ ایک یہودی تھا جس کو ہارون رشید سے ایک کام تھا۔ وہ شخص اس کام کے لیے خلیفہ کے دروازے پر ایک سال تک جاتا رہا، مگر خلیفہ نے اس کی ضرورت پوری نہ کی، پھر ایک دن وہ یہودی ، خلیفہ کے دروازے پر کھڑا ہو گیا۔ جب ہارون رشید باہر نکلا تو وہ شخص تیزی سے آ کر خلیفہ کے سامنے کھڑا ہو گیا، اور کہا—اے امیر المومنین، اللہ سے ڈریئے۔ یہ سن کر ہارون رشید اپنی سواری سے اترا اور سجدے میں گر پڑا۔ پھر ہارون رشید نے سجدے سے سر اٹھایا اور اس نے حکم دیا اور یہودی کی ضرورت پوری کر دی گئی۔ پھر جب ہارون رشید لوٹا تو اس سے کہا گیا کہ اے امیر المومنین، کیا آپ ایک یہودی کے قول پر اپنی سواری سے اتر گئے۔ ہارون رشید نے کہا کہ نہیں، بلکہ مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ قول یاد آیا (2:206): اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو وقار اس کو گناہ پر جما دیتا ہے۔ پس ایسے شخص کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں اسلامی انقلاب آیا، اس کے بعد تاریخ میں جو پر اس اس جاری ہوا، اس کا دوسرا پہلو وہ تھا جس کو ہم نے جدید ٹکنالوجی پر مبنی صنعت کہا ہے۔ یہ دوسرا پر اس اس خاص طور پر عباسی عہد (1258-750) میں بغداد میں شروع ہوا، پھر وہ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اسپین پہنچا۔ اسپین میں اس نے غیر معمولی ترقی حاصل کی۔ اسپین کی مسلم خلافت 711 میں شروع ہوئی اور 1492 میں ختم ہوئی۔ اس مدت میں جو سائنسی ترقیاں ہوئیں، وہی مغرب کے صنعتی انقلاب کی بنیاد بنیں۔ مسلم خلافت کے زمانے میں سائنس میں جو ترقی ہوئی ، اس کے بغیر مغرب میں سائنس کی ترقی ممکن نہ ہوتی۔ مورخین نے اس واقعے کا کھلے طور پر اعتراف کیا ہے۔ اس کی ایک مثال رابرٹ بری فالٹ (Robert Briffault) کی ہے۔ وہ فرانس میں پیدا ہوا اور لندن میں اس کی وفات ہوئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page