Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 373

By Maulana Wahiduddin Khan

بریفاٹ نے مغرب کی نشأۃ ثانیہ سے پہلے عربوں کے سائنسی رول کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ــ یہ بہت زیادہ قابلِ قیاس بات ہے کہ عربوں کے رول کے بغیر یورپ کی جدید صنعتی تہذیب ہرگز کبھی وجود میں نہ آتی: 'It is highly probable that but for the Arabs modern European civilization would never have arisen at all'. Robert Briffault (1876-1948) (The Making of Humanity, p.190, published in 1919; publisher: G. Allen & Unwin Ltd, UK, pp. 371) اس طرح کی رائیں کئی اور مغربی اسکالروں نے دی ہیں۔ مثلاً برٹرنڈ رسل، فیلڈنگ گیرسن (Will Will Durant) ، برنارڈ لوئی (Bernard Lewis) (Fielding Garrison) (Durant، وغیرہ۔ یہاں ول ڈیوَرنٹ کا ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے: Muslim scientists helped in laying the foundations for an experimental science with their contributions to the scientific method and their empirical, experimental and quantitative approach to scientific study. (The Age of Faith, by Will Durant (1980), 4/162 یعنی مسلم سائنس دانوں نے سائنٹفک طریقِ عمل میں اپنے کنٹری بیوشن اور اپنے تجرباتی اور کمیاتی منہج کے ذریعے سائنسی مطالعے کی بنیاد رکھنے میں مدد دی۔ اسلامی تحریک اکیسویں صدی میں قرآن کی مذکورہ آیات (9-61:8) سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے جو انقلاب مطلوب تھا، اُس انقلاب کے دو حصے تھے ــ ایک، اتمامِ نور، اور دوسرے، اظہارِ دین۔ اب اکیسویں صدی میں یہ دونوں چیزیں پوری طرح واقع بن چکی ہیں۔ اس طرح اب اسلامی تحریک اپنے فائنل دور میں پہنچ چکی ہے۔ اب فائنل رول اہلِ ایمان کو ادا کرنا ہے۔ اب اہل ایمان کا کام ہے کہ وہ اس تاریخی انقلاب کو سمجھیں اور اس کے ذریعے پیدا ہونے والے امکانات (opportunities) کو بھر پور طور پر استعمال کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page