اکیسویں صدی میں
Urdu book, p. 374
By Maulana Wahiduddin Khan
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اس مطلوبِ خداوندی کا ایک پہلو وہ تھا جس کو قرآن میں، اتمامِ نور سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اتمامِ نور سے مراد ایک ایسا واقعہ ہے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے، پوری طرح ایک پرامن اور غیر سیاسی واقعہ ہے، اور وہ ہے خدا کے دین کے مستند ایڈیشن کا پوری طرح محفوظ ہو جانا۔ یہ واقعہ اس طرح انجام پا چکا ہے کہ خدا کی کتاب (قرآن) کا متن (text) کامل طور پر محفوظ ہو چکا ہے۔ اسی کے ساتھ پرنٹنگ پریس کا دور دنیا میں آ گیا ہے۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا ہے کہ قرآن کا متن اور اس کے ترجمے تیار کر کے ہر زبان میں شائع کیے جائیں اور اس کو تمام اقوامِ عالم تک پہنچا دیا جائے۔ اس سلسلے میں دوسرا مطلوب وہ ہے جس کو قرآن میں اظہارِ دین کہا گیا ہے، یعنی دین کو غلبہ کی حیثیت مل جانا۔ یہ دوسرا مطلوب بھی اکیسویں صدی میں پوری طرح حاصل ہو گیا ہے۔ اب اہلِ ایمان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اظہارِ دین کے ذریعے حاصل ہونے والے مواقع کو بھر پور استعمال کریں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، اظہارِ دین سے مقصود یہ تھا کہ دنیا میں وہ حالتِ فطری قائم ہو جائے۔ یہ واقعہ بھی پوری طرح انجام پا چکا ہے۔ اب دنیا میں پوری طرح مذہبی آزادی آ چکی ہے۔ کسی بھی رکاوٹ کے بغیر دنیا کے کسی ملک میں دعوتی مشن کو جاری کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ اس انقلاب کے بعد تاریخ میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا ہے کہ انسانی تاریخ میں تلوار کا دور ختم ہو گیا۔ اب صرف پُر امن عمل کا دور ہے۔ تاریخ کا یہ دور عین دعوتی مشن کے حق میں ہے۔ اظہارِ دین، یعنی دنیا میں حالتِ فطری کے قائم ہونے کی بنا پر بہت سے موافق حالات وجود میں آئے ہیں۔ ان میں سے دو بے حد اہم ہیں۔ ایک ہے، کائنات میں چھپی ہوئی اللہ کی نشانیوں کا دریافت ہو جانا۔ اور دوسرا ہے، جدید مواصلات (modern communication) جس نے تاریخ میں پہلی بار اُس عالمی مشن کو مکمل کرنے کا موقع فراہم کیا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25: 1)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader