اظہارِ دین
Urdu book, p. 375
By Maulana Wahiduddin Khan
یعنی، بڑی بابکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تا کہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔ آیات الہی کا ظہور آیات اللہ یا آیاتِ معرفت کا ظہور پیشگی طور پر مقدر تھا۔ قرآن میں اس کی پیشین گوئی ان الفاظ میں کی گئی تھی: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ قرآن کی اس آیت میں جس چیز کو آفاق و انفس میں نشانیوں کا ظہور بتایا گیا ہے، وہ دراصل دورِ جدید میں نظریاتی سائنس کے ذریعے دریافت ہونے والے حقائقِ فطرت ہیں۔ ان حقائق نے دورِ جدید میں معرفتِ خداوندی کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اللہ کا کوئی بندہ تخلیقاتِ الہیہ میں کمالاتِ الہیہ کو دیکھے اور معرفتِ خداوندی کا اعلیٰ درجہ حاصل کرے۔ نیز اسی کے ذریعے یہ بھی ممکن ہو گیا ہے کہ ان حقائقِ فطرت کو دعوتِ الی اللہ کے عمل میں جدید دلائل کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اس طرح دعوت کے عمل کو خود انسان کے علمی مسلمہ کے مطابق ثابت شدہ بنا دیا جائے۔ اس سائنسی انقلاب کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو موجودہ زمانے میں دورِ مواصلات (age of communication) کہا جاتا ہے۔ اس دورِ مواصلات نے تاریخ میں پہلی بار اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ دعوت الی اللہ کے اُس عالمی نشانے کو پورا کیا جا سکے جس کی پیشین گوئی ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں کی گئی تھی: لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ، بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ ذُلٍّ ذَلِيلٍ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814) زمین کی پشت پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر باقی نہیں رہے گا، جہاں اللہ اسلام کا کلمہ نہ پہنچادے، عزت والے کو عزت کے ساتھ اور ذلت والے کو ذلت کے ساتھ، یعنی چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے (willingly or unwillingly)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader