اظہارِ دین
Urdu book, p. 376
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا میں حالتِ فطری کے قائم ہونے سے موجودہ زمانے میں جو نئے مواقع کھلے ہیں، وہ سارے انسانوں کے لیے ہیں۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ان مواقع پر کسی ایک گروہ کی اجارہ داری (monopoly) قائم ہو جائے۔ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، آزادی (freedom) ہر انسان کا فطری حق ہے، مومن کا بھی اور غیر مومن کا بھی۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ آزادی صرف اہلِ ایمان کو حاصل ہو اور دوسرے لوگوں کے لیے وہ منسوخ قرار پائے۔ دوسرے لوگ بھی اپنی آزادی کو کھلے طور پر استعمال کریں گے۔ اگر کسی کے استعمالِ آزادی سے اہل ایمان کے جذبات مجروح ہوتے ہیں تو یہ اہل ایمان کا اپنا مسئلہ ہے، وہ دوسروں کا مسئلہ نہیں۔ دوسروں پر صرف یہ پابندی لگائی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی آزادی کو اس طرح استعمال نہ کریں کہ وہ دوسروں کے لیے جسمانی جراحت (physical injury) کا سبب بن جائے۔ اس ایک پابندی کے سوا، کوئی اور پابندی نہ مطلوب ہے اور نہ ممکن۔ خلاصہ کلام ایک اسلامی اسکالر کا مقالہ نظر سے گزرا۔ اس مقالے میں انھوں نے لکھا تھا کہ اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ بنیادی طور پر دو ہے ۔ توحید اور عدل۔ توحید (Monotheism) سے مراد ان کے نزدیک انفرادی عقیدہ تھا، اور عدل (justice) سے مراد عدل پر مبنی اجتماعی نظام۔ انھیں دو تصورات کے تحت انھوں نے پورے اسلام کی تشریح کی تھی۔ مگر میرے مطالعہ کے مطابق، اسلام کا یہ تصور درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ توحید اور عدل دونوں ہی انفرادی نوعیت کے احکام ہیں۔ توحید سے مراد ہے ایک انسان کا انفرادی عقیدہ، اور عدل سے مراد ہے، ایک انسان کا انفرادی سلوک۔ قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے انسان کو معرفت کے لیے پیدا کیا ہے (51:56)۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل دی۔ اب انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ عقل کو استعمال کر کے اپنے خالق کو دریافت کرے۔ یہی در یافت، خدا پرستانہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader