Urdu book · اظہارِ دین

خلاصہ کلام

Urdu book, p. 377

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگی کا آغاز ہے۔ اس دریافت کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ جب کسی شخص کو حقیقی معنوں میں یہ دریافت ہوتی ہے تو اس کے بعد فطری طور پر اس کی پوری زندگی میں ایک انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ اس کی پوری شخصیت ایک نئی شخصیت بن جاتی ہے، وہ پورے معنوں میں ایک ربانی انسان بن جاتا ہے۔ اسی قسم کا ربانی انسان تخلیق کا اصل مقصود ہے۔ اسی قسم کے ربانی افراد، نہ کہ ربانی معاشرہ، خدا کے تخلیقی منصوبے کا اصل مقصود ہیں۔ موجودہ دنیا میں ایسے افراد پوری انسانی تاریخ سے منتخب کیے جائیں گے اور پھر ان منتخب افراد کی بنیاد پر آخرت کی دنیا میں ایک اعلیٰ ربانی معاشرہ وجود میں آئے گا۔ یہی وہ افراد ہیں جو خدا کی ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے۔ خالق نے اس دنیا میں انسان کو کامل آزادی دی ہے۔ یہ آزادی برائے امتحان ہے، نہ کہ برائے استحقاق۔ انسان کو یہ آزادی بھی حاصل ہے کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے۔ یہ آزادی قیامت سے پہلے منسوخ ہونے والی نہیں۔ اس آزادی کی بنا پر ایسا ہے کہ اس دنیا میں اعلیٰ افراد تو بنتے ہیں، لیکن اعلیٰ معاشرہ یا اعلیٰ نوعیت کا اجتماعی نظام کبھی نہیں بنتا۔ انسانی زندگی کی یہ نوعیت قیامت تک بدستور باقی رہے گی۔ قیامت کے بعد ایک نئی کامل دنیا بنے گی۔ وہاں پوری تاریخ کے منتخب افراد بسائے جائیں گے اور جو لوگ اپنی آزادی کا صحیح استعمال نہ کر سکے، اُن کو جمع کر کے کائناتی کوڑے خانے میں ڈال دیا جائے گا— خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، انسانی زندگی کی حقیقت یہی ہے۔ انسانی زندگی کی با معنی تعبیر صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ اس خدائی منصوبے کو ذہن میں رکھ کر اس کی تعبیر کی جائے، انسانی تاریخ کو با معنی تعبیر دینے کا دوسرا کوئی طریقہ نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page