ہدایت اور اظہارِ دین
Urdu book, p. 378
By Maulana Wahiduddin Khan
ہدایت اور اظہارِ دین قرآن کی سورہ الفتح کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا (48:28)۔ یعنی، اور اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تا کہ وہ اس کو تمام دینوں پر غالب کردے۔ اور اللہ کافی گواہ ہے۔ God is One Who has sent His Messenger with guidance and the true religion, so that God may have it prevail over all religions, God suffices as a witness. 1۔ آیت کا اسلوب بتاتا ہے کہ اس آیت میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ کوئی انسانی واقعہ نہیں، بلکہ وہ ایک حتمی فیصلہ ہے، یعنی اللہ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ لازماً ایسا ہو۔ مزید یہ کہ قرآن کی یہ آیت اِس فیصلہ خداوندی کے بارے میں ہے جس کا تعلق خاتم النبیین سے ہے اور چونکہ خاتم النبیین کی نبوت قیامت تک کے لیے ہے، اس لیے اس فیصلے کا انطبا ق بھی لازماً قیامت تک جاری رہے گا۔ اس آیت میں پیغمبر یا امت مسلمہ کے مشن کو نہیں بتایا گیا ہے، بلکہ اس میں اللہ کے ایک فیصلے کو بتایا گیا ہے، جو پوری انسانی تاریخ میں لازماً ایک واقعہ بنے گا۔ 2۔ دوسری چیز ہدایت ہے۔ ہدایت سے مراد اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی الہامی ہدایت ہے۔ اس الہامی ہدایت کے بارے میں اللہ کا یہ فیصلہ تھا کہ وہ ہر اعتبار سے محفوظ رہے، اس کا عربی متن، اس کی زبان، اس کا لہجہ، حتی کہ اس کا طرز کتابت، وغیرہ۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ اب تک کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ کتاب (قرآن) ہر اعتبار سے محفوظ ہے۔ پرنٹنگ پریس اور ریکارڈنگ کا دور بتاتا ہے کہ اب قرآن کی یہ حفاظت مزید اضافے کے ساتھ یقینی بن چکی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader