Urdu book · اظہارِ دین

ہدایت اور اظہارِ دین

Urdu book, p. 379

By Maulana Wahiduddin Khan

3- اظہارِ دین سے مراد خود دین کا اظہار ہے، نہ کہ دین کے سوا کسی اور چیز کا اظہار۔ اِس آیت میں اظہارِ دین سے مراد سیاسی اقتدار یا اجتماعی نظام نہیں، بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا دین بحیثیتِ دینِ حق اپنے نظریاتی غلبہ کو ہمیشہ برقرار رکھے گا۔ یہ غلبہ بہ اعتبارِ حجت (دلیل) ہو گا، نہ کہ بہ اعتبارِ نظام۔ دینِ حق کے نظریاتی غلبہ کو ہمیشہ برقرار رکھنا تاریخ کا مشکل ترین منصوبہ ہے، کیوں کہ اِس مقصد کو اِس طرح حاصل کرنا ہے کہ انسان کی آزادی پوری طرح برقرار رہے اور اِس کے ساتھ دین کا نظریاتی غلبہ بھی مسلسل طور پر قائم رہے۔ اِس نوعیت کا پیچیدہ منصوبہ کسی بھی انسان کے بس میں نہیں۔ اِس مقصد کے حصول کے لیے انسانی تاریخ کو اِس طرح مینج (manage) کرنا ہے کہ تاریخ کا آزادانہ سفر بھی جاری رہے اور یہ مقصد بھی حسبِ منشا حاصل ہو جائے۔ اِس مقصد کے لیے اللہ نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ جب بھی کچھ لوگ بطورِ دینِ حق کا کوئی غلط ایڈیشن (false edition) تیار کریں تو اس کے بعد خود تاریخ میں ایسے اسباب پیدا ہوں جو اِس ایڈیشن کا خاتمہ کر دیں اور اِس طرح دینِ حق کی صداقت بدستور برقرار رہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اسلام کے ظہور کے وقت سے اب تک ایسے 3 بڑے واقعات پیش آئے ہیں، جب کہ انسان نے خود ساختہ طور پر دین کا ایک غلط ایڈیشن تیار کیا، لیکن اس کے بعد تاریخی عمل کے تحت ایسے حالات پیدا ہوئے جنھوں نے مذہب کے اِس غلط متبادل (wrong alternative) کو حجت (دلیل) کی سطح پر ختم کر دیا۔ اِس طرح دینِ حق کی نظریاتی صداقت بدستور تاریخ میں قائم رہی۔ تاریخ میں اِس نوعیت کی پہلی مثال مظاہرِ فطرت کی پرستش (nature worship) ہے جس کو مذہب کی زبان میں شرک کہا جاتا ہے۔ فطرت کی پرستش کا مطلب یہ ہے کہ فطرت کے مظاہر، سورج، چاند ستارے، وغیرہ میں خدائی صفات (divine attributes) کو فرض کر کے ان کی پرستش کرنا۔ مظاہرِ فطرت کی یہ پرستش قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک قائم رہی۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے تاریخ میں ایسا انقلابی عمل جاری کیا جس کے نتیجے میں آخر کار وہ دور آیا جس کو سائنسی دور کہا جاتا ہے۔ جدید سائنس کے ذریعے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page