Urdu book · اظہارِ دین

ہدایت اور اظہارِ دین

Urdu book, p. 380

By Maulana Wahiduddin Khan

مظاہر فطرت کی موضوعی تحقیق (objective exploration) کی گئی۔ اس کے نتیجے میں علمی طور پر یہ ثابت ہو گیا کہ فطرت میں کوئی اُلوہیت (divinity) نہیں ہے۔ اس طرح انسان کے خود اپنی عقلی مسلمہ پر یہ ثابت ہو گیا کہ فطرت صرف مخلوق ہے، اس کے اندر کوئی بھی الوہی صفت (divine attribute) نہیں۔ اس طرح، خدا کے دین کا دین حق ہونا بدستور ثابت شدہ بن رہا۔ قدیم تاریخ میں دین حق کا دوسرا غلط متبادل (false alternative) شخصیت پرستی (personality cult) کی صورت میں پیدا ہوا۔ شخصیت پرستی کا سیاسی اظہار بادشاہت کے ادارہ کی صورت میں ہوا۔ بادشاہ کے متعلق مان لیا گیا کہ وہ دوسرے انسانوں کے مقابلے میں، پر اسرار فوقیت رکھتا ہے۔ اس طرح بادشاہ کو عملاً وہ درجہ دے دیا گیا جو معبود کا درجہ ہونا چاہیے۔ یہ بادشاہت یا سیاسی شخصیت پرستی انسانی تاریخ میں کئی ہزار سال تک جاری رہی۔ بادشاہت کے دور میں انسانی سوچ کا مرکز ومحور بادشاہ بن گیا۔ اعلیٰ انسانی جذبات بادشاہ کے ساتھ وابستہ کر دیے گئے۔ عام طور پر یہ مان لیا گیا کہ ــــ جو بادشاہ کا مذہب، وہی سب کا مذہب : النَّاسُ عَلَى دِينِ مُلُوكِهِمْ (صحيح وضعیف تاریخ الطبری ، جلد 1، صفحہ 106)۔ بادشاہت کے زمانے میں ساری دنیا میں زراعت کا دور قائم تھا۔ اُس زمانے میں زراعت (agriculture) اقتصادیات کا واحد ذریعہ تھی۔ زمین کا مالک ہونے کی بنا پر بادشاہ اقتصادیات کا واحد مالک بنا ہوا تھا۔ بادشاہ کو یہ حیثیت تھی کہ بادشاہ دینے والا ہے اور بادشاہ چھینے والا۔ اْس زمانے میں بادشاہ کو عملاً وہ درجہ ملا ہوا تھا، جو درجہ خدا کا ہونا چاہیے۔ ان حالات میں یہ تصور پیدا ہوا کہ بادشاہ حاكم (ruler) ہے اور دوسرے تمام لوگ محکوم (ruled) کی حیثیت رکھتے تھے۔ قدیم زمانے کی اس نفسیات کو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا: شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را اس طرح بادشاہ گویا خدا کا ایک سیاسی متبادل (political alternative) بن گیا تھا۔ گویا دین باطل نے دین حق کی جگہ لے رکھی تھی۔ اللہ تعالیٰ کو یہ صورتِ حال مطلوب نہ تھی، چنانچہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page