Urdu book · اظہارِ دین

ہدایت اور اظہارِ دین

Urdu book, p. 381

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوا۔ یہ عمل ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوا، جب کہ عرب میں قبائلی سرداری کا نظام رائج تھا اور عرب کے اطراف میں دو بڑے ایمپائر قائم تھے— ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر۔ بائبل کے الفاظ میں، یہ گویا سیاسی چٹانیں تھیں۔ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے ان سیاسی چٹانوں کو توڑ کر تاریخ میں ایک نیا سیاسی عمل جاری ہوا۔ یہ عمل سفر کرتے ہوئے آخر کار یورپ پہنچا۔ اس سیاسی عمل کا نقطہ انتہا 1789 میں پیش آنے والا فرانسیسی انقلاب تھا۔ اس انقلاب کے بعد دنیا میں ایک نیا دور آیا جس کو جمہوریت کہا جاتا ہے۔ جمہوریت نے شخصی بادشاہت کے تصور کا خاتمہ کر دیا اور دنیا میں عوامی حکومت کا دور آیا، جس کا فارمولا یہ تھا: Government of the people, by the people, for the people. اس جمہوری انقلاب نے قدیم طرز کی شخصی بادشاہت (monarchy) کا خاتمہ کر دیا، پہلے یورپ میں اور اس کے بعد ساری دنیا میں۔ اس طرح دنیا میں بادشاہی مذہب کا خاتمہ ہو گیا اور نظری طور پر دین حق دوبارہ دنیا میں قائم ہو گیا۔ دین حق کا یہ قیام سیاسی اقتدار یا حکومتی نظام کے معنی میں نہ تھا، بلکہ وہ حجت کی سطح پر دین حق کا فکری اظہار تھا۔ یہ واقعہ اتفاقاً پیش نہیں آیا، بلکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ تاریخ میں ایک عظیم خدائی آپریشن کا نتیجہ تھا۔ جمہوریت صرف ایک سیاسی نظریہ نہ تھا، اس کا ایک اور اہم تر پہلو یہ تھا کہ اس نے اُس سیاسی الوہیت (political divinity) کے تصور کا خاتمہ کر دیا جس کو بنیاد بنا کر قدیم زمانے کے بادشاہ اپنی عظمت قائم کیے ہوئے تھے۔ جمہوری انقلاب کے بعد سیاسی اقتدار صرف ایک انتظامیہ (administration) بن کر رہ گیا، ایک مقدس ادارے کی حیثیت سے اس کا خاتمہ ہو گیا۔ اس سلسلے کی تیسری مثال وہ ہے جس کو ہیومن ازم (Humanism) کہا جاتا ہے۔ ہیومن ازم ایک جدید فلسفہ ہے جس کو دوسرے الفاظ میں، انسان پرستی کہا جا سکتا ہے۔ یہ دین حق کا آخری غلط متبادل ہے جو بیسویں صدی کے نصف آخر میں زیادہ طاقت کے ساتھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page