Urdu book · اظہارِ دین

ہدایت اور اظہارِ دین

Urdu book, p. 382

By Maulana Wahiduddin Khan

پیدا ہوا۔ یہی معاملہ وجودیت (Existentialism) کا ہے، جس کا بانی فرانسیسی فلسفی سارترے (Jean Paul Sartre) ہے جس کی وفات 1946 میں ہوئی۔ وجودیت بھی دراصل ہیومن ازم کا فلسفیانہ ایڈیشن ہے۔ ہیومن ازم کیا ہے، ہیومن ازم ایک غیر خدا پرستانہ فلسفہ ہے۔ ہیومن ازم ایک فکری نظام ہے جس کا مقصد ساری اہمیت انسان کو دینا ہے، نہ کہ خدا یا کسی فوق الفطری طاقت کو: Humanism: An outlook or system of thought attaching prime importance to human, rather than divine or supernatural matters. دورِ جدید کے بہت سے فلسفی ہیومن ازم کے نقطہ نظر کے حامی بن گئے ۔ مثلاً جرمن فلسفی لدوگ فیورباخ (Ludwig Feverbach) جس کی وفات 1872 میں ہوئی، اس نے لکھا ہے کہ انسان ہی خدا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں: God is nothing other than man himself. امریکی فلسفی ولیم جیمس (William James) جس کی وفات 1910 میں ہوئی، وہ بھی ہیومن ازم کا حامی تھا، انگلش فلسفی جولین ہکسلے (Julian Huxley) جس کی وفات 1975 میں ہوئی، اس نے ہیومن ازم کی حمایت میں ایک کتاب لکھی۔ اس کا ٹائٹل یہ ہے: Religion Without Revelation اس کتاب میں ہیومن ازم کی تعریف اس طرح کی گئی ہے ـــ سیٹ کا خدا سے انسان کی طرف منتقل ہو جانا۔ (Transfer of seat from God to Man)۔ ہیومن ازم کے موضوع پر عام قاری کے لیے ایک قابلِ مطالعہ کتاب یہ ہے: Humanism: A Very Short Introduction, by Stephen Law, 2011 بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہیومن ازم کے فلسفے کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ لوگوں نے یہ فرض کر لیا کہ انھیں دینِ خداوندی کا ایک بدل مل گیا ہے۔ غیر خدا پرست طبقے میں یہ سمجھا جانے لگا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page