Urdu book · اظہارِ دین

نصرت با اعتبارِ حفاظت

Urdu book, p. 389

By Maulana Wahiduddin Khan

پڑے ۔ اُس وقت آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے: اَللّٰهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ اْلإِسْلَامِ فَلَا تُعْبَدُ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا (مسند احمد، حدیث نمبر 208)۔ یعنی اے اللہ، اگر تو اس گروہ کو ہلاک کردے تو اس کے بعد زمین پر کبھی تیری عبادت نہ ہوگی۔ اللہ تعالی نے پیغمبر اسلام کی دعا قبول فرمائی اور قرآن (3:124-125) کے بیان کے مطابق، میدانِ جنگ میں کئی ہزار کی تعداد میں فرشتے بھیجے ۔ اس کے بعد جو واقعہ پیش آیا، اُس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ (3:123) ۔ یعنی، اور اللہ تمہاری مدد کر چکا ہے بدر میں جب کہ تم کمزور تھے۔ یہ معاملہ جو غزوہ بدر کے وقت پیش آیا، وہ کوئی سادہ معاملہ نہ تھا۔ یہ وہی چیز تھی جس کو ہم نے نصرت باعتبار حفاظت سے تعبیر کیا ہے، یعنی منصوبہء الہی کی تکمیل سے پہلے مخالفین نے یک طرفہ حملہ کرکے یہ کوشش کی کہ اصحابِ رسول کا خاتمہ کر دیا جائے، مگر یہ قبل از وقت تھا۔ ابھی وہ وقت آنے والا تھا جب کہ اصحابِ رسول کی جماعت اپنا آخری دعوتی رول ادا کرے۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ اس جماعت کو مخالفین کے حملے سے بچا کر محفوظ رکھا جائے۔ اصل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام نے جب مکہ میں اپنا دعوتی مشن شروع کیا، اُسی وقت سے اللہ تعالی کا ایک منصوبہ زیرِ عمل آ گیا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ ایک مدت تک مختلف واقعات کے دوران پیغمبر اسلام اور آپ کی دعوت توحید کا خوب چرچا ہو، تا کہ مکہ اور اطرافِ مکہ کے لوگ اُس سے باخبر ہو جائیں۔ لوگوں کے اندر بڑے پیمانے پر اس بارے میں تجسس (curiosity) پیدا ہو جائے اور پھر اُن کے اِس تجسس کو استعمال کر کے یہ موقع فراہم کیا جائے کہ لوگ بڑے پیمانے پر آپ کے مشن کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ نصرت باعتبارِ اس پر اس کے اس معاملے کو قرآن میں رفع ذکر (94:4) کہا گیا ہے، یعنی لوگوں کے درمیان توحید کے مشن کا چرچا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں اپنے دعوتی مشن کا آغاز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page