Urdu book · اظہارِ دین

نصرت با اعتبارِ حفاظت

Urdu book, p. 390

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا تو ہر دن نئے نئے واقعات پیش آتے رہے — کبھی آپ، لوگوں کے مجمع میں جا کر اُن کو قرآن سنا رہے ہیں، کبھی مکہ کے کسی آدمی کے قبولِ اسلام پر مخالفین کی طرف سے اس پر تشدد کیا جا رہا ہے، کبھی کسی مسلمان کو حرمِ مکہ میں نماز پڑھنے سے روکا جا رہا ہے، کبھی باہر سے مکہ آنے والا کوئی شخص پیغمبرِ اسلام سے اِس معاملے میں سوال و جواب کر رہا ہے، کبھی حج کا موسم ہے اور مختلف قبائل کے لوگ مکہ آ رہے ہیں اور آپ وہاں جا کر اُن کے سامنے اپنے مشن کا تعارف پیش کر رہے ہیں، کبھی آپ کا اور آپ کے خاندان کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے، کبھی مکہ کے سرداروں کی ایذارسانی سے مجبور ہو کر اصحابِ رسول کا ایک قافلہ مکہ سے ہجرت کر کے حبش جا رہا ہے، کبھی آپ اپنے مشن کے تحت طائف اور دوسرے مقامات پر جاتے ہیں، کبھی دار الندوہ میں پیغمبرِ اسلام کے خلاف مشورہ ہو رہا ہے اور آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، وغیرہ۔ پھر جب مکہ میں 13 سال قیام کے بعد آپ مکہ سے 300 میل کی دوری پر واقع شہر مدینہ چلے جاتے ہیں تو اس تذکرے میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اب غزوات اور سرایا اور جھڑپوں (skirmishes) جیسے واقعات کے نتیجے میں آپ کا اور آپ کے مشن کا چرچا تمام عرب میں، حتیٰ کہ اطرافِ عرب میں پھیل جاتا ہے۔ آپ کے مخالفین کی مخالفانہ کارروائیوں کے نتیجے میں بظاہر بہت سے واقعات ہو رہے تھے جو مسلسل لوگوں کے علم میں آ رہے تھے۔ اسی کے ساتھ ایک بلا اعلان عمل جاری تھا۔ یہ عمل ان واقعات کے درمیان ایک انڈر کرنٹ یا زیرِ سطح عمل (under the surface process) کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہ لوگوں کے اندر نہایت تیزی سے تجسس کی نفسیات پیدا کر رہا تھا۔ لوگ فطری طور پر جاننا چاہتے تھے کہ یہ مشن کیا ہے اور اس مشن سے وابستہ افراد کا معاملہ کیا ہے۔ تجسس کی یہ زیریں رو (under the surface process) اللہ کے منصوبے کے مطابق، عین مطلوب تھی، کیوں کہ اُس سے پیغمبرِ اسلام کے مشن کے دعوتی مواقع مسلسل طور پر بڑھ رہے تھے۔ یہی وہ عمل ہے جس کو ہم نے نصرتِ باعتبارِ اس کا نام دیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page