Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 391

By Maulana Wahiduddin Khan

نصرت باعتبار فتح ہجرت کے دوسرے سال اس انڈر کرنٹ عمل پر تقریباً 20 سال گزر چکے تھے۔ نصرت باعتبار پر اس کا عمل اپنی تکمیل کے مرحلے تک پہنچ گیا تھا۔ اب ضرورت تھی کہ اس پیدا شدہ امکان کو بھر پور طور پر دعوت کے لیے استعمال (avail) کیا جائے۔ مگر مخالف فریق نے جنگ اور ٹکراؤ کا جو ماحول بنا رکھا تھا، اس کی موجودگی کی بنا پر اس پیدا شدہ موقع کو استعمال کرنا عملاً ناممکن ہو گیا تھا۔ اس لیے اب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت حکمت کے ساتھ ایک نیا منصوبہ بنایا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت مدینہ میں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خواب دکھایا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ جا رہے ہیں۔ آپ نے یہ خواب اپنے اصحاب کو بتایا۔ اس کو سن کر لوگ بہت خوش ہوئے۔ وہ عمرہ کے لیے مکہ جانے کی تیاری کرنے لگے۔ اس کے مطابق، آپ یکم ذی القعدہ 6 ہجری کو عمرہ کے ارادے سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اُس وقت تقریباً 15 سو مہاجرین اور انصار آپ کے ساتھ تھے۔ اہل مکہ کو پیغمبر اسلام کے اس سفر کی اطلاع ہوگئی۔ انھوں نے طے کیا کہ وہ کسی قیمت پر پیغمبر اسلام کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ چنانچہ انھوں نے آگے بڑھ کر حدیبیہ کے مقام پر آپ کے قافلے کو روک دیا جو کہ مکہ سے 9 میل کے فاصلے پر واقع تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے حدیبیہ میں پڑاؤ ڈال دیا۔ اس کے بعد اہل مکہ کے نمائندے وہاں آنے لگے اور تقریباً دو ہفتے تک دونوں فریق کے درمیان گفت و شنید جاری رہی۔ اس گفتگو کے دوران پیغمبر اسلام کو یہ موقع ملا کہ آپ اہل مکہ سے یہ کہیں کہ ہمارے اور تمھارے درمیان ٹکراؤ اور جنگ کی جو صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے، وہ ایک غیر مطلوب چیز ہے۔ اور ضروری ہے کہ اس کو ختم کر دیا جائے۔ آخر کار یہ طے ہوا کہ فریقین کے درمیان صلح کا معاہدہ (peace treaty) ہو جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page