Urdu book · اظہارِ دین

نصرت با اعتبارِ پر اسس

Urdu book, p. 392

By Maulana Wahiduddin Khan

صلح کا یہ معاہدہ جب لکھا جانے لگا تو اہل مکہ کے نمائندہ سردار نے شدید انداز میں حمیتِ جاہلیہ (48:26) کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے ضد اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی یک طرفہ شرطوں کی بنیاد پر معاہدہ کیا جائے، حتی کہ انھوں نے اصرار کیا کہ ”رسول اللہ“ کے لفظ کو معاہدے کی تحریر سے مٹا دیا جائے۔ پیغمبر اسلام نے اہل مکہ کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیا، صرف اس لیے کہ اس معاہدے کے ذریعے دونوں فریق کے درمیان امن کا ماحول قائم ہو رہا تھا۔ حدیبیہ کا معاہدہ صلح اہل مکہ کی یک طرفہ شرطوں کی بنیاد پر ہوا تھا۔ چنانچہ صحابہ کے اندر اس کے خلاف شدید رد عمل پیدا ہوا۔ عمر فاروق نے کہا: لِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ مِنْ دِينِنَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731)۔ یعنی، ہم اپنے دین کے معاملے میں اس ذلت آمیز معاہدے کو کیوں قبول کریں۔ ایک صحابی نے رسول اللہ سے کہا کہ آپ نے مدینہ میں اپنے ایک خواب کے حوالے سے ہم کو بتایا تھا کہ ہم عمرہ کرنے مکہ جا رہے ہیں، پھر یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ عمرہ کیے بغیر درمیان سے لوٹ رہے ہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ کیا میں نے یہ کہا تھا کہ ہم اسی سال مکہ جا کر عمرہ کریں گے (فَأَخْبَرْ تُكَ أَنَّا نَأْتِيهِ الْعَامَ؟)۔ ان تمام مخالفتوں کے باوجود آپ نے اہل مکہ سے امن کا معاہدہ کر لیا اور حدیبیہ سے مدینہ کے لیے واپسی کا فیصلہ فرما لیا۔ معاہدہ حدیبیہ کی تکمیل کے فوراً بعد وہ سورۃ اتری جو قرآن میں الفتح کے نام سے شامل ہے۔ اس سورۃ کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (48:1)۔ یعنی، ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ سورۃ اپنے اصحاب کو پڑھ کر سنائی تو ابتداء صحابہ کو یہ بیان بہت عجیب معلوم ہوا۔ عمر فاروق نے کہا: أَوَ فَتْحٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَفَتْحُ (تفسیر القرطبی، جلد 16، صفحہ (261)۔ یعنی، اے خدا کے رسول، کیا یہ کوئی فتح ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ ہاں، اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یقیناً وہ فتح ہے۔ اسی طرح ایک اور صحابی نے کہا: مَا هَذَا بِفَتْحِ. فَقَالَ: بَلْ هُوَ أَعْظَمُ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page