Urdu book · اظہارِ دین

نصرت با اعتبارِ پر اسس

Urdu book, p. 393

By Maulana Wahiduddin Khan

اَلْفُتُوحَ (تفسیر القرطبی، جلد 16، صفحہ 260)۔ یعنی، یہ تو کوئی فتح نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ فتح ہے، بلکہ سب سے بڑی فتح ہے۔ معاہدہ حدیبیہ دراصل ایک تدبیر تھی۔ اُس نے عمل کے میدان کو بدل دیا۔ اِس سے پہلے اہلِ ایمان مجبور تھے کہ وہ ٹکراؤ اور جنگ کے میدان میں فریقِ ثانی سے مقابلہ کریں، لیکن اب اُن کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ اپنی پوری قوت کو یکسوئی کے ساتھ دعوت کے میدان میں استعمال کریں۔ میدانِ عمل کی یہ تبدیلی بے حد اہم تھی۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ صرف دو سال کے محدود عرصے میں اسلام پورے جزیرہ عرب میں پھیل گیا۔ اس نتیجے کو دیکھتے ہوئے مشہور تابعی ابن شہاب الزہری (وفات 124 ہجری) نے کہا تھا کہ: لَقَدْ كَانَتِ الْحُدَيْبِيَةُ أَعْظَمَ الْفُتُوحِ (تفسیر القرطبی، جلد 16، صفحہ 261) یعنی، حدیبیہ اسلام میں سب سے بڑی فتح تھی۔ مگر یہ سادہ طور پر صرف نتیجے کی بات نہیں، بلکہ وہ منصوبہ (planning) کی بات تھی۔ یہ کوئی اتفاقی نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ ایک گہری منصوبہ بندی کے ذریعے پیش آنے والا منصوبہ تھا۔ یہی وہ چیز ہے جس کو ہم نے نصرت باعتبار فتح کا عنوان دیا ہے۔ یہ معاملہ دراصل نصرت بذریعہ پر اس کا معاملہ تھا۔ حدیبیہ سے پہلے تقریباً 20 سال تک بظاہر ٹکراؤ اور مخالفت کے جو واقعات پیش آرہے تھے، اُن کے ساتھ فطری طور پر ایک زیرِ سطح پر اس جاری تھا۔ اس پر اس کو ایک لفظ میں، منفی تعارف کہا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ہر ایک کے لیے اسلام ایک ایسی حقیقت بن گیا جو یہ تقاضا کر رہا تھا کہ اُس کو براہِ راست جاننے کی کوشش کی جائے۔ دوسرے لفظوں میں ، اِس صورتِ حال نے بڑے پیمانے پر اسلام کے لیے دعوت کے مواقع پیدا کر دئے ، جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے۔ معاہدہ حدیبیہ کا معاملہ بلاشبہ ایک حکیمانہ منصوبہ بندی کا معاملہ تھا۔ یہ حکیمانہ منصوبہ بندی تر فطرت کے قوانین پر مبنی ہے، اس لیے ہر زمانے میں دوبارہ اس کا کامیاب تجربہ کیا جا سکتا ہے، جس طرح دوارول میں اس کا کامیاب تجربہ کیا گیا تھا ”نصرت باعتبار فتح کا معاملہ خصائص نبوی کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page