Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 394

By Maulana Wahiduddin Khan

معاملہ نہیں، بلکہ وہ اسوہ نبوی کا معاملہ ہے۔ اس کو ہر زمانے میں اسی طرح دہرایا جا سکتا ہے جس طرح پیغمبر کے دوسرے نمونوں کو دہرایا جا سکتا ہے۔ حدیبیہ اور اسوہ رسول قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (33:21)۔ یعنی، اللہ کے رسول میں تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اس آیت میں 'اسوہ' کسی محدود معنی میں نہیں ہے، وہ پیغمبر کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے۔ پیغمبر اپنی پوری زندگی کے اعتبار سے، اہل ایمان کے لیے ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس عموم میں استثناء صرف کسی ایسی چیز کا ہو سکتا ہے جس کو صراحتاً پیغمبر کے ساتھ خاص کیا گیا ہو۔ مثلاً ازدواج کے معاملے میں بعض پہلوؤں سے آپ کے ساتھ استثنا کا معاملہ، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے : خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ (33:50)۔ یعنی، یہ خاص تمھارے لیے ہے، اہل ایمان سے الگ۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول کا ہر قول اور ہر فعل امت کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ ہوگا، الا یہ کہ رسول کے کسی فعل کو صراحتاً رسول کی ذات کے ساتھ خاص کیا گیا ہو۔ اس اصول کی روشنی میں معاہدہ حدیبیہ کا معاملہ بلا شبہ ایک قابل تقلید اسوہ رسول کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب کبھی اور جہاں بھی وہ حالات پیدا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ 6 ہجری میں پیدا ہوئے تھے، تو اُس وقت اسوہ حدیبیہ اُسی طرح امت کے لیے قابل اتباع بن جائے گا، جس طرح وہ دورِ اول کے اہل ایمان کے لیے قابل اتباع بنا تھا۔ معاہدہ حدیبیہ ایک فتح کا معاملہ تھا۔ فتح کا معاملہ صرف پیغمبر کے لیے خاص نہیں، وہ تمام امت کے لیے یکساں طور پر مطلوب ہے۔ قرآن میں بار بار فتح کو اہل ایمان کے لیے ایک عمومی مطلوب کی حیثیت سے بتایا گیا ہے۔ مثلاً: وَأُخْرَى تُحِبُّوْنَهَا نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ (61:13)۔ یعنی، اور ایک اور چیز بھی جس کی تم تممنا رکھتے ہو، اللہ کی مدد اور فتح جلدی۔ جب فتح پوری امت کے لیے ایک مطلوب شے ہے تو فتح کی تدبیر بھی یقینی طور پر پوری امت کے لیے ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page