Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 395

By Maulana Wahiduddin Khan

مطلوب شے ہوگی۔ فتح اور تدبیر فتح کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تدبیر فتح سے مراد سیاسی فتح (political victory) نہیں ہے، بلکہ نظریاتی فتح (ideological victory) ہے۔ موجودہ زمانے میں اس نظریاتی فتح کا امکان پوری طرح پیدا ہو چکا ہے۔ مگر اس نظریاتی فتح کو واقعہ بنانا صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ حکمتِ حدیبیہ کو سمجھا جائے اور آج کے حالات کے لحاظ سے اس کا استعمال کیا جائے۔ حکمتِ حدیبیہ حدیبیہ کے واقعے کو سیرت کی کتابوں میں غزوۂ الحدبیہ کے عنوان کے تحت درج کیا جاتا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حدیبیہ کا واقعہ دوسرے بہت سے غزوات میں سے ایک غزوہ تھا۔ حالانکہ حدیبیہ کا واقعہ نہ غزوہ تھا اور نہ دوسرے واقعاتِ نبوی کی طرح صرف ایک واقعہ۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیبیہ کا واقعہ ایک اعلیٰ درجے کا منصوبہ تھا۔ حدیبیہ کے واقعے کو، معروف معنی میں، غزوہ کہنا بلا شبہ اس کا کم تر اندازہ (underestimation) کرنے کے ہم معنی ہے۔ حکمتِ حدیبیہ دراصل ایک فطری قانون ہے۔ اس قانون کا ذکر قرآن کی سورۂ فتح میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا (48:27)۔ یعنی، اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہ جانی۔ یہ قرآن کا ایک اسلوب ہے۔ اس سے مراد اللہ کا علم غیب نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اُس وقت ایک صورتِ حال موجود تھی، لیکن اس کو جاننے کے لیے ربانی عقل درکار تھی، عام آدمی اُس کو سمجھ نہیں سکتا۔ عام آدمی ہمیشہ چیزوں کو فیس ویلو (face value) پر لیتا ہے، عام آدمی صرف اُس بات کو جان پا تا ہے جو سطح پر ہوتی ہے۔ لیکن ربانی عقل رکھنے والا انسان اپنی بصیرت کے تحت اُس حقیقت کو جان لیتا ہے جو وہاں زیرِ سطح موجود ہوتی ہے۔ 6 ہجری میں عرب کے اندر یہ صورتِ حال تھی کہ بظاہر لوگ پیغمبر کے مخالف بنے ہوئے تھے، لیکن داخلی نفسیات کے اعتبار سے، ہر ایک کے اندر سکینڈ تھاٹ (second thought) آچکا تھا، یعنی شعوری یا غیر شعوری طور پر مذہب توحید کے بارے میں دلوں کے اندر نرم گوشہ (soft corner)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page