Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 396

By Maulana Wahiduddin Khan

کا پیدا ہونا۔ اس کی ایک علامتی مثال خالد بن الولید (وفات 21 ہجری) کا واقعہ ہے۔ وہ فتح مکہ سے کچھ پہلے ایمان لائے۔ وہ اپنے اُس وقت کے احساس کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: قَدْ شَهِدْتُ هَذِهِ الْمَوَاطِنَ كُلَّهَا عَلَى مُحَمَّدٍ، فَلَيْسَ مَوْطِنٌ أُشْهِدُهُ إِلَّا أَنْصَرِفُ وَأَنَا أَرَى فِي نَفْسِي أَنِّي مُوضِعٌ فِي غَيْرِ شَيْءٍ (مغازی الواقدی، جلد 2، صفحہ 746)۔ یعنی، میں محمد کے خلاف تمام جنگی کارروائیوں میں شریک ہوا ہوں، لیکن ہر کارروائی سے واپسی پر میرے دل میں یہی احساس پیدا ہوتا تھا کہ میں ایک بے مقصد اور لا حاصل جگہ پر کھڑا ہو کر جد و جہد کر رہا ہوں۔ خالد بن الولید کے ان الفاظ کو اگر جنرلائز کیا جائے تو اُس وقت کے عربوں کی اکثریت کا احساس یہی ہو چکا تھا۔ اگرچہ خارجی سطح پر ٹکراؤ اور مخالفت کا ماحول نظر آتا تھا، لیکن داخلی نفسیات کے اعتبار سے بیشتر لوگ: فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا (66:4) ـــ یعنی، تمہارے دل جھک پڑے ہیں ـــ کا نمونہ بن چکے تھے۔ یہ صورت حال تھی جس کو استعمال (avail) کرنے کے لیے ایک عمل اعتدال (process of normalization) درکار تھا، کیوں کہ معتدل ماحول کے بغیر اس امکان کو استعمال نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یک طرفہ بنیاد پر معاہدہ حدیبیہ کر کے یہی معتدل ماحول بنایا گیا۔ اور اس کے بعد فطری طور پر وہ نتیجہ برآمد ہوا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا (1:110-2)۔ یعنی، جب اللہ کی مدد آجاۓ اور فتح۔ اور تم دیکھو گے کہ لوگ خدا کے دین میں داخل ہورہے ہیں فوج درفوج۔ ظاہر دنیا، باطن دنیا صلح حدیبیہ 6 ہجری میں ہوئی ۔ اس واقعے کو قرآن میں فتح مبین (48:1) کہا گیا ہے۔ جس حکمت (wisdom) کے تحت حدیبیہ کا معاہدہ کیا گیا، اُس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذَلِكَ فَتْحًا قَرِيْبًا (48:27)۔ یعنی، اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہ جانی، پس اللہ نے اس سے پہلے ایک فتح قریب ٹہرا دی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page