Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 397

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی اس آیت میں بظاہر دنیا کا اور آخرت کا ذکر ہے، مگر اس آیت کا ایک وسیعی مفہوم (extended sense) بھی ہے، جس کا اشارہ آیت کے اس لفظ میں ملتا ہے: يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيَوَّةِ الدُّنْيَا (30:7)۔ یعنی، وہ دنیا کی زندگی کے صرف ظاہر کو جانتے ہیں۔ گویا دنیا کا ایک ظاہر ہے اور ایک اس کا باطن ہے۔ مگر ظاہر ہیں لوگ صرف اس کے ظاہر کو جانتے ہیں، وہ اس کے باطن سے بے خبر رہتے ہیں، یعنی اکثر لوگ چیزوں کو ان کے فیس ویلو (face-value) پر لیتے ہیں، حالات کے گہرے پہلوؤں تک ان کی نظر نہیں پہنچتی۔ یہ آیت قرآن میں صلح حدیبیہ کے سیاق میں اتری۔ اس پس منظر کو ملحوظ رکھتے ہوئے آیت پر غور کیجیے تو اس سے ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سطح (surface) پر جو کچھ نظر آتا ہے، وہ صرف حالات کا ظاہری پہلو ہوتا ہے، اس کے سوا ایک اور چیز ہوتی ہے جو انڈرکرنٹ (undercurrent) ہوتی ہے۔ جس آدمی کے اندر ربانی بصیرت ہو، وہ سطح سے گزر کر انڈر کرنٹ امکانات کو دیکھ لے گا۔ وہ سطح کی باتوں کو نظر انداز کرے گا اور جو چیز انڈرکرنٹ ہے، اس کو دریافت کر کے اس کے مطابق، اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے گا۔ یہ ایک حکمت حیات ہے، یعنی سطح کی باتوں کو نظر انداز کر کے کے انڈرکرنٹ جو حالات ہیں، ان کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرنا۔ معاہدۂ حدیبیہ اسی حکمت کی ایک پیغمبرانہ مثال ہے۔ یہ مثال پیروان رسول کے لیے ایک ابدی ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ پیروان رسول کو چاہیے کہ وہ رسول اللہ کے اس نمونے کو اپنے حالات پر منطبق کریں اور اُس عظیم کامیابی کے حصے دار بنیں جو اس حکمت پر اللہ نے مقدر کی ہے۔ اکیسویں صدی میں حدیبیہ منصوبہ اکیسویں صدی میں دوبارہ وہی حالات زیادہ بڑے پیمانے پر پیدا ہوگئے ہیں جو کہ پہلی صدی ہجری میں معاہدہ حدیبیہ کے وقت عرب میں پیدا ہوئے تھے۔ اکیسویں صدی میں دوبارہ پوری طرح وہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ معاہدہ حدیبیہ کی تاریخ کو عالمی سطح پر دہرایا جائے ۔ اس امکان کو اپنے حق میں واقعہ بنانے کی شرط دوبارہ وہی ہے جو دورِ اول میں پیش آئی، اور وہ ہے صابرانہ دانش مندی یا دانش مندانہ صبر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page