Urdu book · اظہارِ دین

حدیبیہ منصوبہ

Urdu book, p. 398

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ مغربی قومیں نئے ذرائع سے مسلح ہو کر پوری دنیا میں پھیل گئیں۔ انھوں نے ہر جگہ اپنا دبدبہ قائم کر دیا۔ یہ واقعہ بڑے پیمانے پر اٹھارھویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ اُس وقت کی دنیا میں مسلمانوں کی بڑی بڑی سلطنتیں قائم تھیں—برصغیر ہند میں مغل ایمپائر، ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبے میں ترک ایمپائر، وغیرہ۔ مغربی قوموں نے مسلمانوں کی ان سلطنتوں کو مغلوب کر لیا اور ہر جگہ اپنا دبدبہ قائم کر لیا۔ اس عمل کا نقطۂ آغاز متعین کرنا ہو تو وہ 1799 قرار پائے گا۔ اسی سال دو بڑے فیصلہ کن واقعے ہوئے۔ ایک طرف، اسی سال بحر متوسط (Mediterranean Sea) میں مغربی طاقتوں نے ترکوں کے عظیم بحری بیڑہ (naval fleet) پر حملہ کر کے اس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ اور دوسری طرف، اسی سال برٹش فوج نے سلطان ٹیپو کی فوج کو کامل شکست دے دی۔ اس کے بعد برٹش جنرل نے فاتحانہ جذبے کے ساتھ کہا تھا کہ— آج انڈیا ہمارا ہے (Today, India is ours!)۔ اس کے بعد انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں مسلسل اس طرح کے واقعات ہوتے رہے— مثلاً 1857 میں انڈیا میں مغل سلطنت کا خاتمہ، 1924 میں خلافت عثمانی کا خاتمہ، 1948 میں اسرائیل کا قیام، اور پھر دوسری عالمی جنگ (1945-1939) کے بعد نام نہاد امریکی امپیریل ازم (American Imperialism) کا ظہور، وغیرہ۔ اس طرح کے واقعات نے پوری مسلم دنیا میں شدید ردعمل پیدا کیا۔ ہر جگہ نفرت اور تشدد اور جہادا یکٹوزم شروع ہو گیا۔ ہر جگہ کے مسلمانوں میں وہی جارحانہ کلچر وجود میں آ گیا جس کی ترجمانی عرب شاعر خیر الدین الزرکلی (وفات 1976) کے ان الفاظ سے ہوتی ہے : جَدِّدِي حِطِّين أَوْ شِبْهَة حِطِّينَا هَاتِ صَلاحَ الدِّينِ ثَانِيَةً فِينَا (صلاح الدین کو دوبارہ ہمارے درمیان لے آؤ۔ حطین یا حطین جیسا معرکہ دوبارہ گرم کرو) واقعات بتاتے ہیں کہ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کی دوسوسالہ مدت تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ’’جہادا یکٹوزم‘‘ کی صدی تھی۔ تمام مسلم دنیا اس جہادا یکٹوزم میں شامل تھی، اس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگ تقریر اور تحریر کی زبان میں نفرت اور تشدد کی بولی بول رہے تھے، اور بقیہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page