فضلِ عظیم کا معاملہ
Urdu book, p. 404
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مزید چیزی دی گئی جو کہ ختم نبوت کا رول ادا کرنے کی نسبت سے آپ کے لیے ضروری تھی، یعنی وہ اسباب یا مواقع جن کو استعمال کر کے آپ خاتم النبیین کی حیثیت سے اپنا فریضہ انجام دے سکیں۔ مثلاً ہاجرہ اور اسماعیل کے ذریعے سے ایک نئی نسل کی تیاری جس کا ذکر قرآن کی سورہ ابراہیم (14) کی آیت نمبر 37 میں کیا گیا ہے، یا ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر دونوں کو کمزور کر دینا، جس کا اشارہ قرآن کی سورۃ الروم کی آیت نمبر 2 میں کیا گیا ہے۔ مذکورہ آیت (4:113) میں اسی قسم کی نصرت مراد ہے، نہ کہ پراسرار قسم کی کوئی شخصی فضیلت۔ نصرت کا یہ خصوصی معاملہ پیغمبر کے مشن کی نسبت سے تھا، نہ کہ پیغمبر کی ذات کی نسبت سے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں علم کی تعلیم: وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ (4:113) ـــ یعنی، اور تم کو وہ چیز سکھائی ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے ـــ سے مراد علم وحی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد مذکورہ قسم کے موافق امکانات سے پیغمبر کو باخبر کرنا ہے۔ یہی اسلوب (سورۃ الفتح) میں اختیار کیا گیا ہے جہاں: فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا (48:27) ـــ یعنی، پس اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہیں جانی ـــ کے الفاظ آئے ہیں۔ سورۃ الفتح کی اس آیت میں علم سے مراد وہ موافق امکانات ہیں جو معاہدہ حدیبیہ کے اندر باعتبار نتیجہ چھپے ہوئے تھے۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پچھلے زمانوں میں ہزاروں سال کے دوران بہت سے پیغمبر بھیجے (23:44) ـــ ان پیغمبروں نے نبوت کا فریضہ پوری طرح انجام دیا، لیکن ان کا مشن صرف اعلان توحید تک پہنچا۔ اُن میں سے کسی کے زمانے میں نہ مطلوب قسم کی امت بنی اور نہ دین خداوندی کا متن محفوظ ہو سکا اور نہ توحید پر مبنی عمومی انقلاب آیا، جو کہ اللہ تعالیٰ کو مقصود تھا۔ یہی وجہ تھی جس کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے لیے اللہ تعالیٰ نے خصوصی اسباب فراہم کیے۔ ان اسباب کو استعمال کر کے یہ ممکن ہوا کہ دنیا میں توحید پر مبنی انقلاب آئے اور دین خداوندی کی نئی تاریخ بنے۔ پیغمبر اسلام کے لیے وحی کے علاوہ، جو مزید موافق اسباب فراہم کیے گئے، انھیں کو قرآن میں فضل کہا گیا ہے، یعنی اضافی اسباب یا مزید نصرت۔ اللہ تعالیٰ نے ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader