فضلِ عظیم کا معاملہ
Urdu book, p. 405
By Maulana Wahiduddin Khan
لبی مدت کے اندر یہ اضافی اسباب فراہم کیے، یہاں تک کہ رسول اور اصحاب رسول کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ ان اسباب کو استعمال کر کے وہ اللہ تعالیٰ کے منصوبے کی تکمیل کریں۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں: وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ (4:13) یعنی، اور تم کو وہ چیز سکھائی ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے۔ اُس وحی کے لیے نہیں ہے جو قرآن کی صورت میں آپ پر نازل ہوئی، بلکہ اس سے مراد وہ علم ہے جس کا تعلق مذکورہ موافق امکانات سے ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر ان موافق امکانات کی خبر دی، تا کہ آپ شعوری طور پر ان امکانات سے واقف ہوں اور ان کو اپنے مشن کے حق میں استعمال کر سکیں۔ 6 ہجری میں پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان حدیبیہ کے مقام پر جو معاہدہ ہوا تھا، وہ اس معاملے کی ایک واضح مثال ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، حضرت عمر فاروق کو اس معاہدے پر سخت اختلاف ہو گیا تھا۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ایک حصہ کتابوں میں اس طرح نقل ہوا ہے: فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَيْسَ هَذَا نَبِيَّ اللَّهِ حَقّاً؟ قَالَ: بَلَى، قُلْتُ: أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ؟ قَالَ: بَلَى، قُلْتُ: فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا إِذاً؟ قَالَ: أَيُّهَا الرَّجُلُ، إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ يَعْصِي رَبَّهُ، وَهُوَ نَاصِرُهُ، فَاسْتَمْسِكْ بِغَرْزِهِ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ عَلَى الْحَقِّ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2732)۔ یعنی، عمر فاروق کہتے ہیں کہ پھر میں ابو بکر کے پاس گیا۔ میں نے کہا کہ اے ابو بکر، کیا رسول اللہ نبی برحق نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ضرور آپ نبی برحق ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ ہم حق پر ہیں اور ہمارا دشمن باطل پر ہے۔ انھوں نے کہا کیوں نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر کیوں ہم اپنے دین کے معاملے میں ذلت کو اختیار کریں۔ ابو بکر نے کہا کہ اے شخص، وہ اللہ کے رسول ہیں۔ وہ کبھی اپنے رب کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا۔ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو لازم پکڑو۔ خدا کی قسم، وہ حق پر ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader