دورِ جدید کی مثال
Urdu book, p. 406
By Maulana Wahiduddin Khan
دورِ جدید کی مثال قرآن کی مذکورہ آیت میں اللہ کے جس ’فضلِ عظیم‘ کا ذکر ہے، اس کا ظہور صرف ایک بار نہیں ہوا، بلکہ خدا کی دوسری رحمتوں کی طرح وہ بھی تاریخ میں بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ فضل یا اضافی نصرت بہت بڑے پیمانے پر ظاہر ہو چکی ہے۔ اہل ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ اس کو پہچانیں اور اس کو خدائی مشن کے حق میں بھرپور طور پر استعمال کریں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اس لیے بھیجا، تا کہ وہ سارے عالم کو امر حق سے آگاہ کردے (25:1)۔ اس آیت میں جس عالمی نشانے کا ذکر ہے، وہ اول دن سے مطلوب تھا، مگر اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق، اس دنیا میں کسی نشانے کی تکمیل کراماتی طور پر نہیں ہوتی، بلکہ وہ اسباب کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس عالمی دعوتی نشانے کو انجام دینے کے لیے قدیم زمانے میں عالمی مواصلات کا نظام عملاً موجود نہ تھا، اس بنا پر مطلوب نشانہ بھی قدیم زمانے میں پورا نہ ہوسکا۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے تاریخ میں ایک نیا پر اسس جاری کیا۔ اس پر اسس کی تکمیل باقاعدہ طور پر انیسویں صدی میں ہوئی۔ انیسویں صدی اور اس کے بعد کی صدی میں وہ تمام اسباب وجود میں آگئے جو دین حق کی عالمی پیغام رسانی کے لیے ضروری تھے۔ آج جس چیز کو دورِ مواصلات کہا جاتا ہے، وہ دراصل اسی خدائی منصوبے کے تحت وجود میں آیا ہے۔ یہ دورِ مواصلات اور اس نوعیت کے دوسرے تائیدی ذرائع گویا کہ دورِ جدید کے ’فضلِ عظیم‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبر اسلام کو اس زمانے کے اعتبار سے فضلِ عظیم یا موافق اسباب دیے گئے تھے، موجودہ زمانے میں پیغمبر کی امت کو دوبارہ جدید تقاضوں کے مطابق، فضلِ عظیم یا موافق اسباب عطا کیے گئے ہیں۔ اب امت کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے زمانے کے فضلِ عظیم کو پہچانے اور اس کو استعمال کرکے اپنے آپ کو اللہ کی عظیم سعادتوں کا مستحق بنائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader