Urdu book · اظہارِ دین

حدیبیہ انقلاب

Urdu book, p. 407

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیبیہ انقلاب قدیم ترین زمانے سے انسان کا یہ ذہن رہا ہے کہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کا سب سے زیادہ طاقت ور ذریعہ جنگ ہے۔ عربی زبان کی ایک قدیم مثل ہے : الحَرْبُ أَنْفَى لِلْحَرْبِ ( جنگ کی کاٹ جنگ ہے ) ۔ انگریزی زبان میں کہا جاتا ہے وار فار پیس (war for peace) ، یعنی پرامن مقصد حاصل کرنا ہے تو جنگ کرو ۔ فارسی کے ایک قدیم شاعر نے کہا تھا کہ جو شخص تلوار چلاتا ہے ، اُسی کے نام کا سکہ چلتا ہے : ہر کہ شمشیر زند سکہ بہ نامش خوانند مگر تاریخ کا تجربہ برعکس طور پر یہ بتاتا ہے کہ جنگ سے کبھی کسی کو کوئی مثبت فائدہ حاصل نہیں کیا۔ ہمیشہ یہ ہوا ہے کہ جنگ میں جو فریق ہارتا ہے ، وہ اپنی ہار کو تسلیم نہیں کرتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہارنے والے فریق کے اندر انتقام (revenge) کی نفسیات جاگ اُٹھتی ہے۔ وہ دوبارہ اپنی قوتوں کو مجتمع کرتا ہے اور فاتح فریق کے خلاف انتقامی جنگ چھیڑ دیتا ہے۔ یہی واقعہ بار بار ہوتا رہتا ہے ۔ اِس طرح عملًا یہ ہوتا ہے کہ جنگ سے ہمیشہ ایک دورِ برائی ( vicious circle ) قائم ہو جاتا ہے : war-defeat-revenge, war-defeat-revenge مسلم تاریخ بھی اِس معاملے میں استثنا (exception) کی مثال نہیں۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ بتاتی ہے کہ 2 ہجری میں بدر کی لڑائی پیش آئی ۔ اِس جنگ میں اہل ایمان کو مکمل فتح حاصل ہوئی۔ انھوں نے فریقِ ثانی کے 70 افراد کو قتل کر دیا ، لیکن مسئلہ ختم نہیں ہوا۔ عملًا یہ ہوا کہ شکست خوردہ فریق انتقامی نفسیات میں مبتلا ہو گیا۔ مکہ لوٹ کر اس نے نئی جنگ کی تیاری شروع کردی اور پھر 3 ہجری میں اس نے انتقامی جذبے کے تحت مدینہ پر حملہ کر دیا۔ اس کے نتیجے میں وہ جنگ پیش آئی جس کو جنگ احد کہا جاتا ہے۔ جنگ احد میں اہل ایمان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page