اظہارِ دین
Urdu book, p. 408
By Maulana Wahiduddin Khan
کو شکست ہوئی اور فریقِ مخالف نے اس جنگ میں اہلِ ایمان کے 70 افراد کو قتل کر دیا۔ جنگ کے خاتمے پر فریقِ مخالف کے سردار ابوسفیان نے ایک پہاڑی کے اوپر کھڑے ہو کر بلند آواز سے کہا: يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3986)۔ یعنی، آج ہم نے بدر کا بدلہ لے لیا۔ تجربہ بتاتا ہے کہ پوری تاریخ میں اربابِ کار اس حقیقت سے بے خبر رہے کہ انسان کی انتقامی نفسیات اس میں رکاوٹ ہے کہ جنگ کے ذریعے کوئی مثبت مقصد حاصل کیا جا سکے۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل طریقہ یہ ہے کہ جنگ کے بجائے صلح کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ صلح کا فائدہ یہ ہے کہ فریقین کے درمیان پرامن ماحول قائم ہو جاتا ہے۔ اس طرح یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ حالات کے اندر چھپے ہوئے مواقع (opportunities) کو دریافت کرکے انھیں استعمال (avail) کیا جائے۔ اس مصالحانہ پالیسی کے تحت کامیابی کا حصول پوری طرح ممکن ہو جاتا ہے، کیوں کہ مواقع کے استعمال ہی کا دوسرا نام کامیابی ہے۔ خدائی منصوبہ بندی اس معاملے میں انسان کو صحیح رہنمائی دینے کے لیے اللہ نے تاریخ میں مداخلت کا فیصلہ کیا۔ یہ واقعہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں پیش آیا۔ اللہ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا ذریعہ بنایا۔ اس کا آغاز ایک خواب سے ہوا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت مدینہ میں تھے ۔ یہاں آپ نے ایک خواب دیکھا۔ اس خواب کے مطابق، آپ ذوالقعدہ 6 ہجری میں اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ اس کے بعد مختلف واقعات پیش آئے۔ آخر کار طویل گفت و شنید (negotiation) کے بعد فریقین کے درمیان وہ معاہدہ طے پایا جس کو تاریخ میں معاہدہ حدیبیہ (Hudaibia Agreement) کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ اپنی تفصیلات کے اعتبار سے، کئی شرطوں پر مشتمل تھا، لیکن اس کی بنیادی شرط صرف ایک تھی، وہ یہ کہ دس سال تک دونوں فریقوں کے درمیان کوئی جنگ نہ ہوگی۔ اس شرط کے الفاظ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader