Urdu book · اظہارِ دین

خدائی منصوبہ بندی

Urdu book, p. 409

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ تھے: ہذاما صالَحَ علیہ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ سُھَیْلَ بْنَ عَمْرٍو، اصْطَلَحا عَلی وَضْعِ الحَرْبِ عنِ النَّاسِ عَشْرَ سِنینَ، یَأْمَنُ فیھِنَّ النَّاسُ وَیَکُفُّ بَعْضُھُم عن بَعْضٍ (سیرت ابن ھشام، جلد 2، صفحہ 317)۔ یعنی، یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو کے درمیان طے ہوا۔ دونوں اس پر رضا مند ہوئے کہ دونوں کے درمیان دس سال تک جنگ نہیں ہوگی۔ معاہدہ حدیبیہ دراصل دس سال کے لیے ایک ناجنگ معاہدہ (no-war packt) تھا۔ مگر دونوں فریقوں کے درمیان اُس وقت دشمنی کا جو ماحول تھا، اُس کے اعتبار سے اِس قسم کا معاہدہ ایک ایسا معاہدہ تھا جو عملاً نا ممکن نظر آتا تھا۔ چنانچہ یہ ظاہر یہ ناممکن چیز صرف اُس وقت ممکن ہوئی، جب کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فریقِ ثانی کی کڑی شرطوں کو یک طرفہ طور پر منظور کر لیا۔ مثلاً ایک شرط یہ تھی کہ مکہ کا کوئی شخص اگر اسلام قبول کر کے مدینہ آئے تو اس کو دوبارہ مکہ والوں کی طرف لوٹانا ہوگا۔ اس کے برعکس، مدینے کا کوئی شخص اگر مکہ چلا جائے تو اہل مکہ کو حق ہوگا کہ وہ اس کو مکہ میں روک لیں اور دوبارہ اس کو مدینہ واپس نہ کریں۔ اسی طرح اِس معاہدے کی ایک شرط یہ تھی کہ تمام اہلِ ایمان اس سال حدیبیہ سے مدینہ واپس چلے جائیں، وہ عمرہ کے لیے مکہ میں داخل نہ ہوں ۔ معاہدہ حدیبیہ ایک کاغذ پر لکھا گیا تھا۔ حضرت علی بن ابی طالب اس کی کتابت کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق، انھوں نے پہلا جملہ یہ لکھا: ہذا ما صالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدُ رَسُولُ اللہِ (سیرت ابن ھشام، جلد 2، صفحہ 317)۔ فریقِ ثانی کے نمائندہ سہیل بن عمرونے اس پر اعتراض کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو اللہ کا رسول نہیں مانتے، اِس لیے آپ صرف ”محمد بن عبد اللہ“ لکھیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے کہا کہ تم کاغذ پر ”رسول اللہ“ کا لفظ مٹاؤ اور صرف ”محمد بن عبد اللہ“ لکھو۔ حضرت علی کا کاغذ سے ”رسول اللہ“ کا لفظ مٹانے پر راضی نہ ہوئے۔ اُس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کو اپنے ہاتھ سے کاغذ سے مٹا دیا۔ اس معاہدے کی تکمیل کے بعد رسول اور اصحاب رسول مدینہ واپس آ گئے۔ اس معاہدے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page