Urdu book · اظہارِ دین

خدائی منصوبہ بندی

Urdu book, p. 410

By Maulana Wahiduddin Khan

سے پہلے دونوں فریقوں کے درمیان مسلسل طور پر ایک حالت جنگ (state of war) قائم تھی۔ اس بنا پر اسلام کا دعوتی مشن عملاً تقریباً متروک ہو کر رہ گیا تھا۔ معاہدہ حدیبیہ کے بعد یہ ہوا کہ دونوں فریقوں کے درمیان مکمل امن قائم ہوگیا۔ اب پیغمبر اور آپ کے اصحاب نے دعوت کا نیا منصوبہ بنایا۔ انھوں نے منظم انداز میں مدینہ کے اطراف میں مسلسل طور پر دعوتی کام شروع کر دیا۔ عرب کے مختلف علاقوں میں آباد قبائل کے درمیان وفود بھیج کر دعوتی کام کیا جانے لگا، حتیٰ کہ عرب کے باہر جو حکومتیں قائم تھیں، اُن کے یہاں دعوتی وفود بھیجے جانے لگے۔ خود مکہ میں رشتے داروں کے ذریعے آمد و رفت جاری ہوگئی۔ اس طرح خود مکہ میں توحید کی آواز پہنچنے لگی۔ پرامن ماحول میں اس طرح دعوتی سرگرمیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ کثرت سے اسلام کے حلقے میں داخل ہونے لگے، یہاں تک کہ صرف دو سال کے اندر اہلِ ایمان کی تعداد اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ یہ ممکن ہوگیا کہ جنگ کے بغیر خود اہلِ ایمان کی تعداد اسلام کی فتح کے لیے کافی ہو جائے۔ چنانچہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموش منصوبہ بندی کے تحت دس ہزار اصحاب کے ساتھ مکہ کی طرف مارچ کیا۔ اس طرح کسی جنگ کے بغیر مکہ پر اہلِ ایمان کا غلبہ قائم ہوگیا۔ توحید کی آواز انسانی فطرت کی آواز ہے۔ اگر معتدل ماحول میں دعوتی کام ہو تو پرامن دعوت ہی لوگوں کے دلوں کو مسخر کرنے کے لیے کافی ہو جائے۔ روایات میں آیا ہے کہ جب اچانک ایک صبح کو اہلِ مکہ نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دس ہزار اصحاب کے ساتھ مکہ میں داخل ہوگئے ہیں تو مکہ کے سردار ابو سفیان نے یہ اعلان کر دیا: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، هِذَا مُحَمَّدٌ قَدْ جَاءَكُمْ فِيما لَا قِبَلَ لَكُمْ بِهِ، فَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنُ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 404)۔ یعنی، اے قریش کے لوگو، یہ محمد ہیں جو اس طرح مکہ میں داخل ہوگئے ہیں کہ تمھارے اندر اُن کے مقابلے کی طاقت نہیں۔ معاہدہ حدیبیہ کے نتیجے میں جو تاریخی واقعہ پیش آیا، اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ 0 وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page