اظہارِ دین
Urdu book, p. 411
By Maulana Wahiduddin Khan
(110:1-2) یعنی، جب اللہ کی مدد آ جائے اور فتح، اور تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ فوج در فوج خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں 'نصر اللہ' سے مراد وہی چیز ہے جس کو دوسرے مقام پر نصرِ عزیز (48:1-3) کہا گیا ہے۔ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا (لوگ خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں فوج در فوج) کے الفاظ میں اُس واقعے کا ذکر ہے جو معاہدہ حدیبیہ کے بعد پیش آیا۔ لوگ اتنی بڑی تعداد میں اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے کہ ان کی کثرتِ تعداد ہی فتح کا سبب بن گئی۔ حکمتِ حدیبیہ نزاع (conflict) کے معاملے میں انسان قدیم زمانے سے صرف یہ جانتا تھا کہ ایسے معاملے میں صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (choice) ہوتا ہے — جنگ یا پسپائی۔ مگر انسان کی یہ سوچ ثنائی طرزِ فکر (dichotomous thinking) پر مبنی تھی۔ قانونِ فطرت کے مطابق، یہاں ایک اور انتخاب ممکن تھا جس سے پوری تاریخ میں انسان بے خبر رہا۔ وہ انتخاب یہ تھا کہ یک طرفہ صلح کے ذریعے امن قائم کیا جائے اور پھر حکیمانہ منصوبہ بندی کے ذریعے موجود مواقع (opportunities) کو بھر پور طور پر استعمال (avail) کیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ نہ فریقِ ثانی سے ٹکراؤ کیا جائے اور نہ پسپائی کا طریقہ اختیار کیا جائے، بلکہ خاموش منصوبہ بندی کے ذریعے امن کی طاقت (power of peace) کو استعمال کیا جائے۔ حدیبیہ کے تاریخی واقعے کے تحت اللہ تعالیٰ نے رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے اس حکمت کا عملی مظاہرہ (practical demonstration) کروایا۔ مگر یہ تاریخ کا عجیب سانحہ ہے کہ حکمتِ حدیبیہ کے کامیاب مظاہرے کے باوجود مسلم اور غیر مسلم دونوں اس عظیم حقیقت سے بے خبر رہے۔ تاریخ میں حکمتِ حدیبیہ کو صرف ایک بار استعمال کیا گیا، نہ اُس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔ انسان ہمیشہ امن کے بارے میں سوچتا رہا ہے، حتی کہ امن کا باقاعدہ مطالعے کا ایک مستقل موضوع بن گیا ہے جس کو پیسیفزم (pacifism) کہا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader