اظہارِ دین
Urdu book, p. 412
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتا ہے۔ اس موضوع پر کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اس موضوع پر ایک انسائیکلو پیڈیا بھی تیار کی گئی ہے جس کا نام انسائیکلو پیڈیا آف پیسیفزم (Encyclopaedia of Pacifism) ہے، مگر اب تک کوئی قابل عمل نظریہ امن (ideology of peace) دریافت نہ ہوسکا۔ روسی مصنف لیوٹالسٹائے (وفات 1910) کی امن کے موضوع پر ایک مشہور کتاب ہے۔ ورلڈ لٹریچر میں وہ ٹاپ کی کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ امن کا قیام صرف عالمی محبت (universal love) کے تصور پر قائم ہوسکتا ہے۔ اُس کی اس روسی کتاب کا ترجمہ مختلف عالمی زبانوں میں ہوا ہے۔ انگریزی ترجمے کا ٹائتل یہ ہے: War and Peace, by LeoTolstoy—1865 مگر جیسا کہ معلوم ہے، ٹالسٹائے کی کتاب صرف ایک ناول ہے، یعنی وہ فکشن کے پیرایے میں لکھی گئی ہے، اور کوئی فکشن حقیقی زندگی (real life) کے لیے گائڈ بک نہیں بن سکتا۔ قرآن کا بیان معاہدہ حدیبیہ ذوالقعدہ 6 ہجری میں طے پایا۔ اس کے فوراً بعد قرآن کی سورۂ الفتح نازل ہوئی ۔ اس سورۂ کی ابتدائی تین آیتیں یہ تھیں: اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا لَيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا وَيَنْصُرَكَ اللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا (48:1-3)۔ یعنی ، بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی تا کہ اللہ تمھاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کردے اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کردے اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے اور تم کو زبردست مدد عطا کرے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ الفتح دورانِ سفر اس وقت اتری جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاہدہ حدیبیہ کی تکمیل کے بعد حدیبیہ سے مدینہ جارہے تھے۔ اُس وقت جو واقعہ ہوا تھا، وہ صرف معاہدۂ امن تھا۔ جہاں تک فتح کی بات ہے، وہ ابھی مستقبل کی چیز بنی ہوئی تھی۔ پھر کیوں ایسا ہوا کہ ماضی کے صیغے میں ارشاد ہوا کہ ہم نے تم کو فتح دے دی، کھلی ہوئی فتح۔ یہ اسلوب دراصل امن کی اہمیت بتانے کے لیے تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جب حقیقی معنوں میں پُر امن طریقہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader