Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 414

By Maulana Wahiduddin Khan

معاملے میں اللہ کی طرف سے کی گئی تھی۔ آگے فرمایا کہ - وَيَهْدِيَكَ صِرَاطاً مُسْتَقِيْماً (48:2) - یعنی، اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے۔ اس آیت میں صراط مستقیم کا لفظ ایک مختلف معنی میں آیا ہے۔ سورہ الفاتحہ میں صراط مستقیم سے مراد انفرادی صراط مستقیم ہے اور سورہ الفتح میں صراط مستقیم سے مراد اجتماعی صراط مستقیم۔ آخر میں فرمایا کہ - وَيَنْصُرَكَ اللَّهُ نَصْراً عَزِيزاً (48:3) - یعنی، اور تم کو زبردست مدد عطا کرے - اس آیت میں نصر عزیز سے مراد عام فتح نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ فتح ہے جو مکمل طور پر پرامن تدبیر کے ذریعے حاصل ہو، جیسا کہ معاہدہ حدیبیہ کے بعد پیش آیا۔ نصر عزیز کا یہ مفہوم قرآن کی سورۃ النصر (110) سے مزید واضح ہوتا ہے۔ اس سورہ میں 'نصر اللہ' کا لفظ آیا ہے - یہ 'نصر اللہ' (خدائی فتح کس طرح حاصل ہوئی۔ واضح طور پر وہ اُس پرامن تدبیر کے ذریعے حاصل ہوئی جو معاہدہ حدیبیہ کے وقت اختیار کی گئی تھی۔ حدیبیہ کلچر معاہدہ حدیبیہ سادہ طور پر صرف ایک معاہدہ نہ تھا۔ معاہدہ حدیبیہ کے ذریعے انسان کے اوپر ایک عظیم حکمت (wisdom) کو کھولا گیا، یعنی یہ حکمت کہ اجتماعی زندگی میں کامیابی کا طریقہ کیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں 2 ہجری میں بدر کی لڑائی پیش آئی۔ اس لڑائی میں اہل ایمان کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی، لیکن اس کے صرف ایک سال بعد احد کی لڑائی پیش آئی - اس لڑائی میں فریق ثانی نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ انھوں نے لڑائی کے میدان میں اہل ایمان کے 70 آدمیوں کو ہلاک کر دیا۔ ایسا انتقامی نفسیات کی بنا پر ہوا۔ بدر کی لڑائی اہل ایمان کے لیے فتح تھی، لیکن فریق ثانی کے لیے وہ انتقام کے ہم معنی بن گئی: Battle of Badr was victory for Muslims and revenge for the other party. اس تجربے سے معلوم ہوا کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں۔ جنگ میں کامیابی صرف اُس وقت مسئلے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page