Urdu book · اظہارِ دین

حدیبیہ کلچر

Urdu book, p. 415

By Maulana Wahiduddin Khan

کا حل بن سکتی ہے جب کہ فریق ثانی اپنی شکست (defeat) کو تسلیم کرے۔ مگر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ہارا ہوا فریق اپنی ہار کو نہیں مانتا، بلکہ اس کے اندر انتقام کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس بنا پر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ جنگ کبھی مسئلے کو ختم کرنے والی ثابت نہیں ہوتی۔ اس بنا پر اللہ کی رہنمائی کے تحت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مسئلے کے حل کا ایک نیا طریقہ اختیار کیا۔ اس طریقے کو حکمت حدیبیہ کہہ سکتے ہیں۔ حدیبیہ کا معاہدہ ایک ناجنگ معاہدہ (no-war pact) تھا، جو فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان کر انجام پایا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم معاہدے کو مکمل کرنے کے بعد حدیبیہ سے مدینہ کی طرف واپس لوٹے ۔ سفر کے دوران آپ پر سورۂ فتح نازل ہوئی۔ معاہدہ حدیبیہ پر آپ کے اصحاب خوش نہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورۂ فتح اپنے اصحاب کو سنائی تو صحابہ کو اس کے بارے میں تردد ہوا۔ حضرت عمر فاروق نے تعجب کے ساتھ کہا: أَوْ فَتْحٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَفَتْحٌ ۔ یعنی، اے خدا کے رسول، کیا یہ فتح ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں، اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، بے شک وہ فتح ہے۔ ایک اور شخص نے کہا کہ : ما هذا بِفَتْحِ (یہ تو کوئی فتح نہیں)۔ اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بَلْ هُوَ أَعْظَمُ الْفُتُوحِ (تفسیر القرطبی، جلد 16، صفحہ 61-360)۔ یعنی، وہ فتح ہے، بلکہ وہ تمام فتحوں سے زیادہ بڑی فتح ہے۔ معاہدہ حدیبیہ جیسے ایک معاہدے کو قرآن میں فتح مبین کیوں کہا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں فرمایا کہ یہ ایک عظیم فتح ہے، حالانکہ آیت کے نزول کے وقت عملی طور پر ’ فتح‘ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تبصرہ سیاسی فتح کے معنی میں نہ تھا، بلکہ وہ اس معنی میں تھا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں اہلِ ایمان کو اپنے حریف کے اوپر بالا دستی حاصل ہوگئی، یعنی اہل ایمان اپنے حریف کے مقابلے میں ایڈوانٹیج کی پوزیشن میں آگئے۔ معاہدہ حدیبیہ کے وقت فریق ثانی کے پاس صرف تلوار کی طاقت تھی۔ اس معاہدے نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page