Urdu book · اظہارِ دین

حدیبیہ کلچر

Urdu book, p. 416

By Maulana Wahiduddin Khan

فریقِ ثانی کو پابند کر دیا کہ وہ اپنی تلوار کو اہل ایمان کے خلاف استعمال نہ کرے ۔ اس طرح گویا اہل ایمان کے مقابلے میں ، فریقِ ثانی خود تو بے طاقت ہو کر رہ گیا۔ لیکن اہل ایمان کے پاس تلوار کے سوا ایک اور چیز تھی جو فریقِ ثانی کے پاس نہ تھی اور وہ ہے نظریہ توحید (ideology of Tauhid)_ یہ نظریاتی طاقت پوری طرح قابلِ استعمال تھی۔ معاہدہ حدیبیہ کے بعد یہ ہوا کہ فریقِ ثانی عملی طور پر کچھ کرنے کے قابل نہ رہا۔ اس کے برعکس ، امن کے قیام کی بنا پر اہل ایمان کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اپنی پوری طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اپنی آئیڈیالوجی کی بھر پور تبلیغ کریں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ایک طرف فریقِ ثانی اس پر مجبور ہو گیا کہ وہ اہل ایمان کے خلاف اپنی تلوار نہ استعمال کرے اور دوسری طرف اہل ایمان کامل آزادی کے ماحول میں نظریہ توحید کی تبلیغ و اشاعت میں ہمہ تن مشغول ہو گئے ۔ انھوں نے عرب کے تمام شہروں اور قبیلوں میں توحید کا پیغام پہنچانا شروع کر دیا، حتیٰ کہ عرب کے باہر جو ممالک تھے ، اُن کے باشندوں تک بھی وہ اسلام کا پیغام پہنچانے لگے۔ اِسی حکمتِ حدیبیہ کا نتیجہ تھا کہ صرف دو سال میں پورا عرب اسلام میں داخل ہو گیا۔ حدیبیہ پالیسی کا فائدہ صرف یہ نہ تھا کہ ساتویں صدی عیسوی میں عرب کے ملک میں اسلام کو یہ کامیابی حاصل ہوئی کہ مختصر مدت میں وہاں ایک غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) آ گیا۔ اس کا دوسرا عظیم فائدہ یہ ہوا کہ حدیبیہ پالیسی کے ذریعے عرب میں جو انقلاب آیا، اُس نے انسانی تاریخ میں پہلی بار ایک نیا عمل (process) جاری کر دیا۔ یہ عمل مختلف مراحل سے گزرتا ہوا موجودہ دور تک پہنچا۔ اس اعتبار سے ، موجودہ دور کو حدیبیہ پر اس کا نقطہ انتہا کہا جا سکتا ہے۔ حدیبیہ حکمت کیا تھی ۔ حدیبیہ حکمت مختصر طور پر یہ تھی کہ جنگی ٹکراؤ کو بند کر کے امن کا ماحول قائم کرنا اور پھر پر امن کوشش کے ذریعے اسلام کے فطری پیغام (natural message) کو لوگوں تک پہنچانا۔ موجودہ زمانے میں انسانی تعلقات کے درمیان جو تبدیلیاں ہوئی ہیں، اس کے بعد یہی حدیبیہ کلچر تمام قوموں کے اتفاق کے ساتھ ساری دنیا میں رائج ہو گیا ہے۔ اس اعتبار سے ، موجودہ دور کو دور حدیبیہ (age of Hudaibia) کہا جا سکتا ہے۔ پچھلے دور میں حدیبیہ کلچر صرف مقامی طور پر آیا تھا۔ موجودہ زمانے میں حدیبیہ کلچر کسی قربانی کے بغیر عالمی سطح پر قائم ہو گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page