اقوامِ متحدہ کا قیام
Urdu book, p. 417
By Maulana Wahiduddin Khan
اقوام متحدہ کا قیام اقوام متحدہ (UNO) 1945 میں قائم ہوئی۔ اس ادارے کا خاص مقصد عالمی امن کا قیام تھا۔ دنیا کے تمام ممالک باقاعدہ طور پر اس کے ممبر بنے۔ اس بین الاقوامی ادارے کا ہیڈ کوارٹر نیو یارک (امریکہ) میں قائم ہے۔ اس عالمی ادارے کے تحت تمام ملکوں کے اتفاق سے ایک چارٹر (charter) تیار کیا گیا، جس کو اقوام متحدہ کا منشور (Charter of the United Nations) کہا جاتا ہے۔ اس چارٹر کے تحت تمام قوموں کے اتفاق سے ایک قرار داد طے پائی جو دفعہ 2 (4) کے طور پر اس چارٹر میں شامل ہے۔ اقوام متحدہ کے اس چارٹر کی دفعہ کے تحت تمام قوموں کے اتفاق سے یہ طے پایا کہ ــــ تمام ممبر ممالک بین اقوامی تعلقات میں اس کے پابند ہیں کہ وہ کسی ریاست کو اس کے استحکام یا اس کی سیاسی آزادی کے معاملے میں دھمکی نہیں دیں گے اور نہ اس کے خلاف طاقت کا استعمال کریں گے : All Members shall refrain in their international relations from the threat or use of force against the territorial integrity or political independence of any state. اقوام متحدہ کے چارٹر کی یہ دفعہ اپنی حیثیت کے اعتبار سے، عین وہی ہے جو معاہدہ حدیبیہ کے وقت طے پائی تھی۔ مزید یہ کہ ساتویں صدی میں معاہدہ حدیبیہ کے وقت فریق ثانی کی جن شرطوں کو یک طرفہ طور پر ماننا پڑا تھا، بیسویں صدی میں تمام قوموں نے ان شرطوں کو بطور خود حذف کر دیا۔ موجودہ زمانے میں اہلِ ایمان کو اس چارٹر کے مطابق، خود حالات کے تحت، عالمی امن حاصل ہوگیا ہے۔ اسی کے ساتھ موجودہ زمانے میں مزید اضافے کے ساتھ وہ تمام امکانات اور مواقع پوری طرح کھل گئے ہیں جو دعوت الی اللہ کے عالمی مشن کے لیے ضروری ہیں۔ مثلاً مذہبی آزادی، کھلا پن (openness)، عالمی کمیونکیشن، آزادانہ آمدورفت، پرنٹنگ پریس، وغیرہ۔ سورۂ فتح جو معاہدہ حدیبیہ کے بعد اتری تھی، اس کا خاتمہ اس آیت پر ہوا ہے : مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اﷲِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اﷲِ وَرِضْوَاناً ۖ سِيْمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader