اقوامِ متحدہ کا قیام
Urdu book, p. 418
By Maulana Wahiduddin Khan
الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً (48:29)۔ یعنی، ”محمد، اللہ کے رسول اور جو لوگ اُن کے ساتھ ہیں، وہ منکروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں۔ تم اُن کو رکوع میں اور سجدے میں دیکھو گے، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضا مندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں۔ اُن کی نشانی ان کے چہروں پر ہے، سجدے کے اثر سے۔ ان کی یہ مثال تو رات میں ہے۔ اور انجیل میں اُن کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی۔ اس نے اپنا انکھوا نکالا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ اور موٹا ہوا، پھر وہ اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا۔۔ وہ کسانوں کو بھلا لگتا ہے، تا کہ اللہ اُن سے منکروں کو غصہ دلائے۔ اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ نے اُن سے معافی اور بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے۔“۔ قرآن کی سورہ الفتح کے خاتمے کے یہ الفاظ تمثیل کی زبان میں ایک اہم تاریخی حقیقت کو بتا رہے ہیں، وہ یہ کہ معاہدہ حدیبیہ جو ذوالقعدہ 6 ہجری میں پیش آیا، وہ کوئی وقتی اور محلی چیز نہ تھا، بلکہ وہ ایک عظیم عمل (process) کا آغاز تھا، جس کے تکمیلی مرحلے پر ایک عالمی انقلاب آنے والا تھا۔ یہ انقلاب تدرجی طور پر آیا اور بیسویں صدی عیسوی میں اس کی تکمیل ہوئی۔ اس عالمی انقلاب سے مراد وہی چیز ہے جس کو ہم نے دور حدیبیہ (age of Hudaibia) کہا ہے۔ معاہدہ حدیبیہ کا خلاصہ یہ تھا کہ فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان کر امن قائم کرنا اور پھر تمام موجود مواقع کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال کرنا۔ یہ موافق حالات جو قدیم زمانے میں رسول اور اصحاب رسول کی قربانیوں کے ذریعے ظہور میں آئے تھے، وہ اب عالمی تبدیلیوں کے نتیجے میں خود زمانی تقاضے کے تحت مزید اضافے کے ساتھ حاصل ہو گئے ہیں۔ یہ جدید موافق حالات جن اسباب کے ذریعے ظہور میں آئے، وہ وہی ہیں جن کو مغربی تہذیب، جمہوری افکار، اقوام متحدہ، وغیرہ کہا جاتا ہے۔ یہ بظاہر سیکولر انقلابات تھے، لیکن اللہ نے ان بظاہر سیکولر انقلابات کو دین کی تائید کا ذریعہ بنا دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader