Urdu book · اظہارِ دین

مسلم تاریخ کی مثال

Urdu book, p. 424

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کا جو سیاسی ادارہ قائم ہوا، وہ تقریباً 30 سال تک باقی رہا۔ اس کے بعد اس کا خاتمہ ہو گیا۔ ایسا اتفاقاً نہیں ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ بعد کے زمانے میں خلافت کا یہ ادارہ اپنی اخلاقی خوبیوں کے باوجود سیاسی استحکام (political stability) کو باقی رکھنے کے قابل نہ رہا، اس لیے اس کو ہٹا کر بنو امیہ کا دور لایا گیا۔ بنو امیہ کا خاص کارنامہ یہ تھا کہ انھوں نے عربی زبان اور عرب کلچر (المروءۃ، وغیرہ) کے فروغ کا شدت سے اہتمام کیا جو کہ اُس وقت قرآن کی کامل حفاظت کے لیے ضروری تھا۔ بنو امیہ کی حکومت تقریباً 90 سال تک جاری رہی۔ ان کے دورِ حکومت کے آخری زمانے میں یہ بات واضح ہو گئی کہ عربیت کے تحفظ میں انھوں نے عالمی تقاضے کو فراموش کر دیا۔ چنانچہ اس کے بعد بنو امیہ کو اقتدار کے مقام سے ہٹا کر ان کی جگہ بنو عباس کو لایا گیا۔ بنو عباس کے دور میں کئی بڑے بڑے کام انجام پائے۔ احادیث کو جمع کرنا، علوم اسلامی کی تدوین، اسلام کی اشاعت، وغیرہ۔ اس کے علاوہ انھوں نے اُس وقت کے سیکولر علوم کو حاصل کیا اور ان کو فروغ دیا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر عالمی فکر پیدا ہوا۔ بنو عباس کے دبدبے کے تحت حفاظتِ دین کا کام کامیابی کے ساتھ جاری رہا۔ واضح ہو کہ دورِ قدیم میں حفاظتِ دین کے لیے سیاسی دبدبہ ضروری تھا، مگر اب پرنٹنگ پریس اور دوسرے موافق اسباب کے ظہور کے بعد سیاسی دبدبے کے بغیر خدا کا دین کامل طور پر محفوظ ہے۔ بنو عباس کی سلطنت تقریباً 500 سال تک جاری رہی۔ اس کے بعد فطری طور پر بنو عباس میں جمود کا دور آ گیا۔ وہ ترقی کے سفر کو مزید جاری رکھنے کے قابل نہ رہے ۔ چنانچہ تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاریوں کے ذریعے ایک آپریشن کیا گیا اور اس طرح عباسی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کے بعد تاریخی قانون کے مطابق، دوسری قوموں کو موقع دیا گیا۔ عباسی دور ہی میں ایک مسلم گروہ اٹھا جس نے اندلس (اسپین) میں اپنا اقتدار قائم کر لیا۔ اس حکومت کو سیکولر مورخین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page