مسلم تاریخ کی مثال
Urdu book, p. 425
By Maulana Wahiduddin Khan
مورث سلطنت (Moorish Empire) کا نام دیتے ہیں۔ مورث سلطنت کو موافق حالات ملے، چنانچہ انھوں نے علم کی ترقی میں مزید بہت زیادہ اضافہ کیا۔ اُس دور کے ترقیاتی نمونوں کو استنبول (ترکی) کے میوزیم (The Istanbul Museum of the History of Science (and Technology in Islam میں دیکھا جاسکتا ہے۔ مگر بعد کے دور میں اندلس کی مسلم سلطنت میں بگاڑ آ گیا۔ اس کے حکمران عیش وعشرت میں پڑ گئے۔ آخر کار 700 سال سے زیادہ مدت کے بعد اُن پر دفع کا قانون نافذ ہوا اور اسپین کے مسیحی حکمرانوں نے لڑ کر اُن کا خاتمہ کر دیا۔ اِسی دور میں مغل حکمران ہندوستان میں داخل ہوئے اور یہاں ایک طاقت ور مسلم سلطنت قائم کردی۔ مغل سلطنت کے زیر سایہ ہندوستان میں کئی کام انجام پائے۔ مغل حکمرانوں کو دعوت وتبلیغ سے کوئی دلچسپی نہ تھی، لیکن اُن کے دببے کے تحت صوفیوں کو یہ موقع ملا کہ وہ اس ملک میں اسلام کی اشاعت بڑے پیمانے پر کرسکیں۔ لیکن بعد کے دور میں مغل حکمرانوں میں بھی وہی بگاڑ آیا جو ہر قوم میں آتا ہے۔ چنانچہ 600 سال کے بعد ہندوستان میں برٹش قوم ابھری اور اس نے 1857 میں مغل سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ اِس سلسلے میں آخری نام عثمانی خلافت کا ہے۔ اس نے یورپ اور ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبے میں اپنی سلطنت قائم کی۔ اس نے لمبے عرصے تک اسلام کا دبدبہ قائم رکھا۔ اس طرح یہ ہوا کہ پرنٹنگ پریس اور دوسرے موافق اسباب کے ظہور سے پہلے کے دور میں وہ دین اسلام کی محافظ بنی رہی۔ آخر کار عثمانی خلافت میں بھی بڑے پیمانے پر جمود پیدا ہوا، وہ مسلسل کمزور ہوتی چلی گئی، یہاں تک کہ 600 سال کے بعد مغربی قوموں کا ظہور ہوا اور اس طرح عثمانی خلافت کا دور ختم ہوگیا۔ کہا جاتا ہے کہ کمال اتاترک (وفات (1938) نے عثمانی خلافت کا خاتمہ کر دیا، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ کمال اتاترک نے 1924 میں ترک خلافت کے خاتمے کا صرف اعلان کیا تھا، اُس کا خاتمہ اس سے بہت پہلے ہو چکا تھا (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، ماہنامہ الرساله، نومبر 2012)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader