اظہارِ دین
Urdu book, p. 426
By Maulana Wahiduddin Khan
جمہوریت کا رول دفع کا قانون پچھلے زمانے میں انقلابی عمل (ریڈیکل آپریشن) کے ذریعے انجام پاتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں اس طریقے کو بدل دیا گیا۔ اسی بدلے ہوئے طریقے کو موجودہ زمانے میں جمہوریت کہا جاتا ہے۔ جمہوریت دراصل دفع کے قانون کا باقاعدہ انسٹی ٹیوشنلائزیشن (institutionalization) ہے۔ فرانسیسی انقلاب (French Revolution) جمہوری دور کا آغاز ہے جس نے 1792 میں بادشاہی نظام کا خاتمہ کیا۔ اس کے بعد عالمی سیاست میں ایک نیا دور آیا، جس کے نتیجے میں یہ ممکن ہو گیا کہ الیکشن کے ذریعے پرامن طور پر حکومت کی تبدیلی ممکن ہوگئی۔ اس طرح تاریخ میں ریڈیکل تبدیلی کے بجائے، پرامن تبدیلی (peaceful change) کا دور آ گیا۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اس الہی منصوبے کو سمجھ نہ سکے۔ وہ خود ساختہ ذہن کے تحت یہ کر رہے ہیں کہ کہیں وہ نا کام طور پر دوسری قوموں سے لڑ رہے ہیں۔ مسلمانوں کی یہ منفی روش قانون الہی کے خلاف ہے، اس لیے اس کا کوئی مفید نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ اسی طرح کہیں ایسا ہے کہ مسلمان پچھلے سیاسی ماڈل کی گرفت سے آزاد نہ ہونے کی بنا پر خاندانی لیڈر شپ قائم کئے ہوئے ہیں۔ کہیں اگر ان کو کچھ سیاسی اقتدار مل گیا ہے تو وہاں وہ آپس میں ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی صورت خدا کے منصوبے کے مطابق نہیں، اس لیے وہ نتیجہ خیز بننے والی بھی نہیں۔ رول کی تبدیلی اللہ نے انسان کی ہدایت کے لیے جو دین بھیجا، اُس کے دو تقاضے تھے۔ ایک تھا، اس کی حفاظت (preservation) اور دوسرا تھا، اس کا اظہار۔ دین کی حفاظت کا کام پہلے بنی اسرائیل کو سونپا گیا، مگر وہ اس میں نا کام ہو گئے۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: اَلَّذِيْنَ حُمِّلُوَا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا (62)۔ یعنی، ان لوگوں کو توراة کا حامل بنایا گیا مگر انھوں نے اس کو نہ اٹھایا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader