Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 427

By Maulana Wahiduddin Khan

بنی اسرائیل کی ناکامی کے بعد بنو اسماعیل (امت محمدی) کو دین خداوندی کے حامل ہونے کی یہ ذمے داری سپرد کی گئی۔ امت محمدی نے اپنے آغاز کے بعد ہزار سال کی مدت میں دین کی حفاظت کا کام پوری طرح انجام دے دیا۔ اب خدا کا دین کامل طور پر محفوظ ہے۔ امت محمدی کو اس کے آغاز کے بعد لمبی مدت تک مددگار قوت کے طور پر سیاسی دبدبہ عطا کیا گیا۔ اس دبدبے کا خاص مقصد یہی تھا کہ دین کا متن (text) اور اس کی تاریخ مستند طور پر محفوظ ہو جائے۔ اس کے بعد دوسرا کام جو مطلوب تھا، اس کو ایک لفظ میں اظہار کیا جا سکتا ہے۔ امت مسلمہ اس دوسرے کام کو انجام نہ دے سکی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو غیر معمولی مواقع دیے گئے ۔ تعداد، دولت اور سیاسی طاقت، وغیرہ۔ مگر امت مسلمہ اس دوسرے مطلوب کام کو انجام دینے میں ناکام رہی۔ اٹھارھویں صدی کے آخر میں یہ واضح ہو گیا کہ امت مسلمہ اب اُسی طرح ایک بے جان قوم بن چکی ہے، جیسا کہ اس سے پہلے بنی اسرائیل اپنے دورِ زوال میں ایک بے جان قوم بن چکے تھے۔ بے جان ہونے کا مفہوم کسی امت کے بے جان ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دین خداوندی کو چھوڑ دے اور اعلان کے ساتھ کوئی دوسرا دین اختیار کرلے۔ اس قسم کی تبدیلی نہ پہلے کبھی ہوئی اور نہ آج ہوگی۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ 14 صدیاں گزرنے کے بعد امت مسلمہ پر وہ وقت آ گیا جو پچھلی امتوں پر آیا تھا، یعنی مسلمان عملاً ایک بے جان قوم بن گئے۔ اب کوئی بھی اصلاحی جدوجہد ان کو مجموعی طور پر دوبارہ زندہ کرنے والی نہیں۔ اب جو چیز ہونے والی ہے، وہ صرف یہ کہ امت کے کچھ افراد کو شخصی طور پر زندگی ملتی رہے گی، نہ کہ پورے مجموعے کو۔ اس صورت حال کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ دھیرے دھیرے امت کی بعد کی نسلوں میں یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ لوگ اسلام کے نام پر ایک خود ساختہ اسلام ( self-styled version of Islam ) بنا لیتے ہیں۔ اس خود ساختہ اسلام میں اسپرٹ حذف ہو جاتی ہے اور صرف کچھ ظاہری شکلیں باقی رہتی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page