اظہارِ دین
Urdu book, p. 428
By Maulana Wahiduddin Khan
پھر لمبی مدت تک اُس پر قائم رہتے ہوئے وہ اُس پر پختہ (conditioned) ہو جاتے ہیں۔ اس پختگی (conditioning) کے ساتھ ہمیشہ ایک فرضی یقین (false conviction) جمع ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے وضع کردہ اسلام پر اس طرح جینے لگتے ہیں، جیسے کہ وہ خدا اور رسول کے دین پر قائم ہیں۔ اسی فرضی یقین کا نام بے جان ہونا یا زندگی سے محرومی ہے۔ جو لوگ اس حالت پر پہنچ جائیں، وہ اس صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں کہ وہ دوبارہ اپنی روش پر نظرثانی کر سکیں۔ کنڈیشننگ کی حالت یہی وہ حالت ہے جس کا ذکر یہود کے حوالے سے قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلًا مَا يُؤْمِنُونَ (2:88) ۔ یعنی، وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں کے اوپر غلاف ہے۔ نہیں، بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کر دی ہے، اس لیے وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں ’غُلْفٌ‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عبد اللہ بن عباس نے اس کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے: أَيْ قُلُوبُنَا مُمْتَلِئَةٌ عِلْمًا، لَا تَحْتَاجُ إِلَى عِلْمِ مُحَمَّدٍ وَلَا غَيْرِهِ (تفسیر القرطبی، جلد 2، صفحہ 25)۔ یعنی، ہمارے دل علم سے بھرے ہوئے ہیں، وہ محمد یا کسی اور کے علم کے محتاج نہیں۔ لعنت کوئی پراسرار چیز نہیں، لعنت سے مراد شدید قسم کی کنڈیشننگ ہے جس کی ڈی کنڈیشننگ عام طور پر ممکن نہیں ہوتی۔ یہاں ”علم“ سے مراد معروف معنوں میں علم نہیں، بلکہ خود ساختہ تصورِ دین ہے۔ یہود کا یہ خود ساختہ دین اپنی حقیقت کے اعتبار سے، علم پر مبنی نہیں تھا، بلکہ وہ امانی (2:78) پر مبنی تھا۔ ٹھیک یہی حال موجودہ زمانے میں مسلم ملت کا ہوا ہے۔ وہ دین کے خود ساختہ ماڈل پر قائم ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد وہ اپنے اس خود ساختہ ماڈل پر اتنے پختہ ہو چکے ہیں کہ اب وہ اُس پر نظرثانی کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ پچھلی امتوں کے بارے میں قرآن میں یہ آیت آئی ہے: اَلَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ (30:32) ۔ یعنی، انھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader